بانو آپا کا ناول’’حاصل گھاٹ‘‘ – عینی اکرم

”حاصل گھاٹ‘‘ کے عنوان سے یہ مجموعی طور پر بانو آپا کی تیسری کتاب ہے جو میرے زیرِ مطالعہ رہی ہے. سچ کہوں تو اس کتاب کا انتخاب میں نے فقط اس کا سرورق دیکھ کر کیا تھا. اُس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میں کیا پڑھنے جا رہی ہوں.
کہنے کو تو یہ ایک ناول ہے مگر طرزِ تحریر عام ناولوں سے بالکل مختلف ہے. یہ کہانی ہے ہمایوں فرید کی جو کہ ایک سیلف میڈ آدمی ہے. ہمایوں فرید اپنی بیٹی ارجمند کے ہاں قیام کے لیے امریکہ جاتا ہے. وہاں امریکہ میں وہ عدم مصروفیت کے باعث بالکونی میں بیٹھ کر ماضی کے جھروکوں میں جھانکتا رہتا ہے. اس کوشش میں سوچوں کے ان گنت در اس پر وا ہوتے ہیں اور یہ کتاب دراصل انہی سوچوں اور تجزیوں کا مجموعہ ہے.
یہاں میں یہ بات بتاتی چلوں کہ اس ناول کو محض ایک ناول کہنا اور اس سے ایک لگے بندھے پلاٹ اور گنتی کے چند کرداروں کی موجودگی کی توقع کرنا ناانصافی ہو گی کیوں کہ اس کتاب کا اسلوب عام ناولوں سے جدا ہے.
یہ کتاب مندرجہ ذیل عنوانات یا موضوعات کا احاطہ کرتی ہے:
* اس ناول کا بنیادی موضوع مغربی اور مشرقی معاشرے کا موازنہ ہے. بانو آپا کسی ایک معاشرے کی دوسرے پر برتری ثابت نہیں کرنا چاہتیں مگر وہ دونوں طرح کے معاشروں کے تضادات پر خاطر خواہ روشنی ڈالنے میں ضرور کامیاب ہوئی ہیں. ایسے میں وہ بعض باتوں کو سوالیہ انداز میں چھوڑ کر کر قاری کے ذہن کو بھی جھنجھوڑتی ہیں.
* دوسرا موضوع تنہائی ہے. بانو آپا نے اس کتاب کے ذریعے گویا قاری کو یہ سمجھانا چاہا ہے کہ تنہائی بہرحال انسان کا مقدر ہے. کبھی وہ اکیلے پن کی شکل میں ہوتی ہے اور کبھی وہ لوگوں کے درمیان رہ کر بھی اپنا وجود منواتی ہے. ہمایوں فرید، اصغری (اپنی بیوی) کے ساتھ رہ کر بھی تنہا تھا۔ وہ اصغری کے مرنے کے بعد بھی تنہا رہا اور ارجمند اور اپنے نواسوں کی موجودگی میں بھی اس کے اندر کی تنہائی نہ مٹ سکی۔
* تیسرا موضوع فلاح اور ترقی ہے. بانو آپا نے فلاح اور ترقی کے مابین فرق کو نہایت عمدگی سے بیان کرتے ہوئے فلاح کی ترقی پر برتری ثابت کی ہے. انہوں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ترقی کی نسبت فلاح ایک پائیدار اور دیرپا عمل ہے جس کی جڑیں مذہب سے ملتی ہیں.
* چوتھا موضوع خیال کا سفر ہے. کس طرح انسان تمام عمر خیال کا سفر اختیار کیے رکھتا ہے، واہموں کے پیچھے بھاگتا ہے. اس پہلو کو بیان کرنے کے لیے انہوں نے ”اقبال‘‘ کے کردار کو بطور استعارہ استعمال کیا ہے. اقبال جو ہمایوں کا واہمہ تھی مگر کچھ اس طرح کہ وہ اسے ہمیشہ حقیقت کے مدِمقابل رکھ کر دیکھتا رہا اور اپنے اندر کی تنہائی سے بچ نہ سکا.
کتاب میں جا بجا لوک کہانیاں، تاریخی حوالے اور نئی نسل کی کئی الجھنوں کا جواب بھی موجود ہے. شرط یہ ہے کہ تعصب کی عینک اتار کر اسے پڑھا جائے. گو کہ بعض مقامات پر کتاب سست روی کا شکار معلوم ہوتی ہے اور کچھ باتوں کو بارہا دہرایا بھی گیا ہے لیکن اس کے باوجود یہ کتاب ایک سنجیدہ قاری کو جکڑے رکھنے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے. کئی کڑوے سچ بانو آپا نے اس انداز سے بیان کیے ہیں کہ قاری کو اپنے دل کی آواز معلوم ہوتے ہیں. کتاب میں مذہب سے متعلق الجھنوں کا جواب بھی موجود ہے مگر منفرد اور مدلل انداز میں.
یہ کتاب تسلی سے دل کی آنکھ کھول کر پڑھنے کے لائق ہے لہٰذا اگر آپ سنجیدہ قاری ہیں اور دل کا در وا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں تو اسے ایک بار ضرور پڑھیں.
336 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو بھی سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور سے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت 795 روپے مقرر کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں