راجہ گدھ – محمد مبین امجد

بہت سال پہلے آپا بانو قدسیہ کا ناول راجہ گدھ پڑھا تھا۔ مکمل کہانی تو مجھے اب بھول گئی ہے مگر اس میں سب سے اہم تذکرہ اس میں حلال و حرام کا ہے اور اس کے نسلوں پر اثرات کے موزوں بیان کا ہے۔ اگرچہ کہیں کہیں یہ کتاب پڑھنا کافی مشکل ہوجاتی ہے کہ اس میں دو کہانیاں متوازی ہو کر چلتی ہیں۔ (ایک انسانوں اور ایک گِدھوں کی) مگر میں کہوں گا کہ یہ ایک لاجواب کتاب ہے۔ اس کتاب کو کبھی بھی آدھا مت پڑھیں۔ اس میں کچھ موڑ ایسے آئیں گے کہ آپ کہو کہ لوجی یہ کیا لکھا ہے، لیکن پوری کتاب پڑھنے پر ہی آپ کی سمجھ میں آئے گا کہ کتاب آپ سے کیا کہنا چاہتی ہے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بانو آپا نے ایک لفظ ”جین میوٹیشن‘‘ (Gene Mutation) لکھا تھا۔ جین میوٹیشن کا مطلب ہے انسانی جینز میں تبدیلی واقع ہونا، یا ان جینز میں کوئی خرابی پیدا ہوجانا۔ جہاں بھی چند سنجیدہ لوگ بیٹھ جائیں، ان کا رونا شروع ہو جاتا ہے کہ آج کی اولاد والدین کی فرمانبردار نہیں رہی۔ بچے ادب نہیں کرتے، اولاد یہ کر رہی ہے، وہ کر رہی ہے وغیرہ وغیرہ، تو اس کی وجہ یہ جین میوٹیشن ہی ہے اور جین میوٹیشن کیوں ہوتی ہے؟ بانو آپا کے مطابق جینز کی تبدیلی کا دارومدار رزق پر ہوتا ہے. آج کل اس طرح کے حالات کی بڑی وجہ اولاد کو حرام کا لقمہ کھلانا ہے اور ہمارے معاشرے میں حرام کی کئی قسمیں مستعمل ہیں جیسا کہ سود، جسے ہم آج پرافٹ کے نام سے کھا رہے ہیں۔ اسی طرح قسطوں میں ہوم اپلائینسز کی خرید و فروخت بھی سود ہی کی ایک قسم ہے۔ ذرا تصور کریں کہ ہمیں تو حکم ہے:
(ترجمہ) اے ایمان والو تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔
مگر ہم خود اپنے ہاتھوں سے آگ کے انگارے اپنے بچوں اور گھر والوں کو کھلا رہے ہیں، تو پھر یہ ہماری نافرمان کیوں نا ہوں۔ یہ ہماری ڈاڑھیوں کو کیوں نہ کھینچیں، ہمیں گھروں سے کیوں نہ نکالیں، دربدر کی ٹھوکروں میں بھٹکنے کے لیے کیوں نہ چھوڑیں؟
ہم بڑے خوش ہوتے ہیں کہ آج بیٹے کی سالگرہ ہے، اور دفتری اوقات سے ڈنڈی مار کر سالگرہ منانے چلے جاتے ہیں اور کوئی پرواہ نہیں کرتے، مگر یہی بچے کل آپ کو گھر سے نکالیں گے اور آپ ہی بتائیں کہ کیا ہمارے اس معاشرے میں بچے ماں باپ کو قتل نہیں کرتے، کرتے ہیں بالکل کرتے ہیں، اور وجہ کیا ہے وہی جین میوٹیشن، اور جین میوٹیشن کی وجہ ہے حرام کی کمائی سے بچوں کی پرورش کرنا۔ ارے ہمیں تو حلال اور طیب رزق کھانے کا حکم ہے۔
(ترجمہ) اے ایمان والو پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی اور الله کا شکر کرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو.
مگر افسوس کہ ہم نے اس ہدایت کو پس پشت ڈال دیا۔ اسی وجہ سے آج ہمیں یہ حالات دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ خیر میں یہ کہوں گا کہ راجہ گدھ بانو قدسیہ کی ایک انمول تصنیف ہے۔ اسے سال میں دو بار ضرور پڑھیں۔ ہر بار آپ کو ایک ہی کتاب سے نئے زاویے سمجھ میں آئیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں