بانو آپا – محمد مبین امجد

چند دن جاتے ہیں کہ اُردو کی معروف مصنفہ آپا بانو قدسیہ وفات پاگئیں۔ میں کیا اور میری بساط کیا کہ میں ان پہ چند الفاظ لکھ سکوں۔ مگر لکھنے تو ہیں نا کہ اب یہی رسم دنیا اور دستور معاشرت ہے۔ سو ایک رسم نبھانے کو لکھتا ہوں یہ جانتے ہوئے بھی کہ جہاں کتابیں لکھنے سے حق ادا نہیں ہو سکتا وہاں میرا ایک کالم کیا حق ادا کرپائے گا؟؟؟
بانو آپا ایک عورت کا نہیں بلکہ دو متضاد شخصیتوں کا ایک نام ہے۔ بانو ایک ماں ہے، ایک بیوی ہے، ایک بیٹی ہے۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ بانو ایک مصنفہ ہے، ایک کہانی کار ہے اور اگر ہم ادب کو ایک کلاہ کہیں تو بانو ایک کلاہ کار بھی ہے۔ اُردو کی اس عظیم شخصیت کے بارے میں ممتاز مفتی کہتے ہیں:
”قدسی کی شخصیت کا جزو اعظم پتی بھگتی ہے- اگرآپ پتی بھگتی کا مفہوم سمجھنا چاہتے ہیں تو میرا مخلصانہ مشورہ ہے چند روز اشفاق احمد کے گھرمیں قیام کیجیے-
اگراشفاق احمد قدسی کی موجودگی میں برسبیل تذکرہ آپ سے کہے کہ اس گھر میں تو سامان کے انبار لگے ہوئے ہیں میرا تو دم رُکنے لگا ہے تو اگلے دن گھر میں چٹائیاں بچھی ہوں گی اور پیڑھیاں دھری ہوں گی- اگرکسی روز لاؤڈ تھنکنگ کرتے ہوئے اشفاق کہے بھئی چینی کھانوں کی کیا بات ہے تو چند دنوں میں کھانے کی میز پرچینی کھانے یوں ہوں گے جیسے ہانگ کانگ کے کسی ریستوران کا میز ہو-
ایک دن اشفاق کھانا کھاتے ہوئے کہے کہ کھانے کا مزہ تو تب آتا تھا جب اماں مٹی کی ہانڈی میں پکاتی تھیں- اگلے روز قدسی کے باورچی خانے میں مٹی کی ہاںڈیا چولہے پر دھری ہوگی-‘‘
بانو قدسیہ نے جہاں گر گھرہستی کے امور احسن طریقے سے نبھائے وہیں اپنے ذہن کے گھوڑے کو کاغذ پہ مہمیز بھی لگائے رکھی۔ بانو قدسیہ اُردو اور پنجابی، دونوں زبانوں میں لکھتی رہیں۔ بانو قدسیہ نے 1981ء میں ’’راجہ گدھ‘‘ لکھا جس کا شمار اُردو کے مقبول ترین ناولوں میں ہوتا ہے۔ ان کی کل تصانیف کی تعداد دو درجن سے زیادہ ہے اور ان میں ناول، افسانے، مضامین اور سوانح شامل ہیں۔ انہوں نے اُردو کے علاوہ پنجابی زبان میں بھی بہت لکھا جب کہ پاکستان ٹیلی وژن کے لیے متعدد ڈرامے لکھے جنہیں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔
بانو آپا کون تھیں؟؟؟ میں کیا جانوں؟؟؟
بات مگر تب کی ہے جب میں نے اپنے اندر کے ڈرپوک اور کمزور بچے کے چھپانے کو کتابوں کا سہارا لیا۔ جب میرا کوئی دوست نہ تھا، تب کتابیں میری دوست بنیں، اور اگر چہ میں نے شروعات عمرو عیار کی کہانیوں سے کی، پھر ٹارزن اور پھر دیگر بچوں کی کہانیاں۔۔۔ یوں میٹرک تک میں نے بس بچوں کی کہانیاں ہی پڑھیں۔ پھر انٹر میں میرا داخلہ گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ میں ہو گیا۔ وہاں کی لائبریری میں ایک لائبریری اسسٹنٹ تھے شیراز خاں، اللہ ان کا بھلا کرے ایک دن انہوں نے مجھے راجہ گدھ پڑھنے کو دی۔
پھر تو مجھے ایسا نشہ چڑھا کہ میں نے وہ کتاب چند ہی دنوں میں پڑھ ڈالی۔ اس ناول کا بنیادی پیغام حلال وحرام کی تمیز ہے۔ اس ناول کو اللہ نے اس قدر پذیرائی بخشی کہ عام بندہ تو یہ سوچ ہی نہیں سکتا کہ کوئی عورت اس طرح کا ناول لکھ سکتی ہے۔
چنانچہ اُردو کی معروف بلاگنگ سائٹ ”ہم سب‘‘ پہ ایک صاحب جناب افضل مجید بٹ صاحب لکھتے ہیں کہ:
”میرے لیے یہ بات بھی حیران کن ہے کہ گھر کا چولھا چوکا کرنے والی عام سی خاتون راجہ گدھ جیسا ناول کیسے لکھ سکتی ہے؟؟؟ اشفاق صاحب نے تو صحرا صحرا کی خاک چھانی، گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا، اگر وہ راجہ گدھ ناول لکھتے تو شاید اچنبھے کی بات نہ ہوتی۔ یہ بات میں نے تب بھی بانو آپا سے پوچھی تھی جب 1997ء میں میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ تب وہ ناول کے ذریعے مجھ سے بات کررہی تھیں، اس بارے میں خاموش رہیں، جواب نہیں دیا۔ 2016ء میں جب میں نے اس بات کا پھر سے تذکرہ چھیڑا تو ان کے جواب نے میرے پاؤں تلے سے زمین ہی نکال دی۔ کہنے لگیں ”راجہ گدھ میں نے نہیں لکھا.‘‘ تو پھر کس نے لکھا ہے؟
میں نے سمجھا شاید نسیان کا حملہ ہوا ہے، بڑھاپے میں یادداشت ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ کہنے لگیں ہمارے گھر کے لان میں ایک درخت ہے، میں اکثر اس کی چھاؤں میں بیٹھتی تھی، ایک دن اس کے نیچے بیٹھے میں نے سنا کوئی میرے کان میں بار بار ”راجہ گدھ‘‘ کہہ رہا ہے۔ میں وہاں سے اٹھ کر چھت پر گئی تو وہاں کچھ ورق پڑے تھے اس پر لکھا ہوا تھا ”راجہ گدھ‘‘ میں قلم لے کر بیٹھ گئی، پھر اگلے دو تین ہفتوں میں راجہ گدھ مجھ پر اترتا گیا اور میں لکھتی رہی۔‘‘
بانو قدسیہ کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 2003ء میں ’’ستارہ امتیاز‘‘ اور 2010 میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ٹی وی ڈراموں پر بھی انہوں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کیے اور اب انہیں ”کمال فن ایوارڈ‘‘ سے نوازا جارہا ہے۔
آہ مگر ”داستان سرائے‘‘ کا آخری مکین بھی رخصت ہوا، اُردو ادب کا ایک اور روشن باب بند ہوگیا، اُردو ادب کی ماں ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہوگئیں۔
بانو قدسیہ کی وفات سے ادبی دنیا میں پیدا ہونے والا خلا مدتوں پُر نہیں کیا جا سکے گا۔ ﷲ پاک اُن کی مغفرت فرمائیں، آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں