راجہ گدھ اور گرگ شب – حسنین جمال

میرے پیدا ہونے سے پہلے یہ ناول لکھا گیا اور بین بھی ہو گیا۔ کہانی لکھنا ایک عجیب و غریب کام ہے۔ لکھنے والا جب شروع کرتا ہے تو اس کے دماغ میں ایک خاکہ سا ہوتا ہے۔ دو چار لائنوں کا پلاٹ کس طرح پھیل کر پندرہ سو یا دو ہزار لفظوں میں ڈھل جائے، یہ پلاٹ کی اپنی مرضی ہوتی ہے۔ قسم سے جھوٹ نہیں کہہ رہا، کسی لکھنے والے سے پوچھ کر دیکھ لیجیے۔ پھر ناول میں ایک کام اور ہوتا ہے۔ اس میں کردار خود سے منہ زور ہو جاتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں فلاں بندے کو مار دیں لیکن وہ بیچ ناول میں جان دینے پہ تیار نہیں ہو گا۔ وہ آپ کے سامنے ڈیڑھ سو سوال رکھ دے گا۔ اچھا، مجھے مارو گے؟ تو پھر باقی کہانی کس کے گرد گھماؤ گے؟ پہلے جہاں جہاں میرے منہ سے باتیں کروا کے ٹریجڈی بھگتا دیتے تھے وہاں کیا کرو گے؟ تو لکھنے والا سر پکڑ کے بیٹھا ہوتا ہے کہ یار اب اس سے جان چھڑائی جائے تو کس طرح، اور باقی کہانی نبھائی جائے تو کیسے۔ یہی معاملہ کیریکٹرز کی خود کلامی کا ہوتا ہے۔ شیکسپیئر کے بارے میں ایک گھسی پٹی بات یہ کہی جاتی ہے کہ وہ لکھتے ہوئے اپنے کرداروں کی روح میں اتر جاتا تھا۔ یہ بات تھوڑی الٹی کہی گئی ہے۔ دراصل یہ کردار ہیں جو لکھنے والے کی روح میں سماتے ہیں اور جیسے کسی پہ جن آ جائیں بس اسی طرح لکھنے والے کی انگلی پکڑ کے اس سے ہر چیز لکھوائے جاتے ہیں۔ وہ جو سوچیں گے، وہ لکھوائیں گے، وہ جو بات کریں گے، وہ درج ہو گی، وہ جس سے ملیں گے، اس کا قصہ ہو گا، وہ کوئی بھی ایسا کام کریں گے جو رائٹر کی نظروں میں آ جائے گا تو پھر رائٹر مجبور ہو گا کہ اسے بیان کرے۔ کوئی بھی چیز لکھنے کی یہ آزادی پوئٹک لائسنس کہلاتی ہے۔
میر اور غالب نے جو لکھا اگر اسے نثر میں کہہ دیتے تو اکرام اللہ کے ناول سے بہت پہلے بین ہو چکے ہوتے۔ ہم شاعری میں بڑی بڑی باتیں برداشت کر جاتے ہیں۔ ہر وہ چیز جو ہماری نصابی سوچ کے خلاف ہو شاعری میں اس کا نوٹس کبھی نہیں لیا جاتا۔ وہی بات نثر میں اگر منٹو کہے یا عصمت چغتائی کہے تو ان پہ مقدموں کی مار ہو جاتی ہے۔ اکرام اللہ نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا تھا جو منٹو یا عصمت کہہ سکتے تھے، ان کا ظفر (گرگ شب کا مرکزی کردار) تو خود کلامی کر رہا تھا اور یونانی فلسفیوں کے انداز میں سوچ رہا تھا کہ نئے نئے پاکستانی مارشل لا میں گھر گیا۔ چار پانچ لائنیں 183 صفحے کا ناول بین کروا گئیں۔ کسی مصنف کی کتاب بین ہو جانا ایسے ہے جس طرح انسان کی اولاد چھین لی جائے اور نظروں کے سامنے شیشے کے گھر میں بند کر دیں۔ تو بس یہ ہوا۔
سارا ناول فرسٹ پرسن اکاؤنٹ ہے۔ جو آدمی قصہ سنا رہا ہے وہی مرکزی کردار ہے۔ وہ ظفر ہے، ایک بزنس مین جو بڑی تگ و دو کے بعد اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوا ہے لیکن اپنے تکلیف دہ ماضی سے پیچھا چھڑانے میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔ اس کا ماضی کبھی ڈراؤنے خوابوں کی شکل میں بیچ راتوں کو اسے اٹھا دے گا۔ کبھی وہ انہی باتوں کو سوچتا سوچتا سائیکو ہو جائے گا۔ کبھی اسے مشروب میں پناہ لینی پڑے گی اور کبھی وہ گھر کی تنہائی کے خوف سے راتوں کو باہر گھومتا رہے گا۔ ظفر شادی شدہ نہیں ہے۔ ایک بہت ہی شفیق کردار ظفر کے باپ کا ہے جس کی جھلک بہت تھوڑی سی دکھائی دیتی ہے لیکن تھوڑا ذکر ہو جانے کے باوجود بھی ٹھیک ٹھاک یاد رہ جانے والا کردار ہے۔ وہ اپنے باپ کی دوسری شادی کے بعد پیدا ہوا۔ ظفر کی ماں عمر میں اس کے باپ سے بہت چھوٹی ہیں۔ ظفر کی اصل دماغی پریشانی اس لیے ہے کہ وہ اپنے باپ کے صلب سے نہیں ہے۔ بس اس کے بعد سے ظفر اپنی سوچوں کی کھچڑی دماغ میں پکاتا ماضی سے بھاگتا رہتا ہے، یہاں تک کہ بھاگتے بھاگتے ایک کامیاب بزنس مین بن جاتا ہے۔
یہ ناول کئی جگہ آپ کو چونکائے گا۔ ایسا لگے گا کہ ظفر جو سوچتا ہے وہی آپ بھی سوچتے ہیں۔ ظفر 1978 میں لکھے جانے والے ناول کا ایک کردار ہے اور اگر وہ آج تک ریلیٹ کر رہا ہے تو یہ کمال کی بات نہیں؟ اور جس موضوع پہ اس وقت اکرام اللہ نے لکھا وہ موضوع آج بھی ٹیبو کا درجہ رکھتا ہے۔ اکرام اللہ پچھلے پچاس پچپن برس سے مسلسل لکھ رہے ہیں، ان کا ادبی کنٹریبیوشن نہایت عمدہ ہے لیکن وہ کسی لابی کا حصہ نہیں ہیں۔ چونکہ نہیں ہیں اس لیے ان پر نقادوں نے کچھ خاص لکھنے کی زحمت نہیں کی۔ عمر میمن اور سلیم الرحمن ان کے جوہر شناس ہیں، عمر میمن نے ان کا بہت سا کام انگریزی میں ترجمہ بھی کیا ہے‘ بلکہ ہاں، انگریزی والا کام اردو کی نسبت زیادہ آسانی سے مل بھی جائے گا۔
عمر میمن نے ایک بار کہیں لکھا کہ جب اکرام صاحب کا انگریزی ترجمہ فائنل پبلشنگ کے لیے جا رہا تھا تو پبلشروں نے اکرام اللہ کی تصویر مانگی اور کتاب کے ٹائٹل پہ وہ جو مشہور ادیبوں کی رائے لکھی ہوتی ہے، وہ مانگ لی تاکہ فلیپ لکھا جائے۔ عمر میمن نے بہت تلاش کیا لیکن دو تین لوگوں کی مختصر رائے کے علاوہ کہیں کچھ نہ ملا۔ بہت ہچکچاتے ہوئے انہوں نے اکرام اللہ کو ایک ای میل لکھ دی۔ وہ اکرام صاحب کی بے نیازی سے پریشان تھے۔ وہ سوچتے تھے کہ بھئی انہیں پتہ ہے کہ میں ایک عرصہ ہوا ان کی کہانیاں انگریزی میں ترجمہ کر رہا ہوں اور یہ مڑ کے اتنا بھی نہیں پوچھتے کہ ہاں یار کام کہاں تک پہنچا؟ خیر اس ای میل کا جو رپلائے آیا وہ دیکھیے، ”ڈیئر مسٹر میمن، میں یہ مناسب نہیں سمجھتا کہ لکھنے والے کی فوٹو کتاب پر چھاپی جائے۔ مشہور لوگوں کے کومنٹس بھی میرے پاس فی الوقت موجود نہیں ہیں۔ میں ایسی چیزیں محفوظ نہیں رکھتا‘‘۔ خیر انہیں بعد میں ایک آدھی فوٹو کہیں سے مل ہی گئی اور سلیم الرحمن صاحب کا تبصرہ لیے وہ کتاب بھی چھپ گئی۔ تو بس اکرام اللہ کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ نہیں ان کا تخلیق کردہ ادب بولتا ہے اور اس شدت سے بولتا ہے کہ کبھی کبھی زبردستی اس کا منہ بند بھی کر دیا جاتا ہے۔
سب سے اہم بات رہ گئی۔ پچھلے دنوں ایک کتاب آئی جس میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا کہ راجہ گدھ‘ جو بانو قدسیہ کا مشہور ناول ہے‘ کو گرگِ شب کا چربہ ثابت کیا جا سکے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ گرگ شب اس سے کہیں زیادہ بولڈ کینوس پر پینٹ ہوئی تصویر ہے جبکہ راجہ گدھ کی فلاسفی ہی سرے سے دوسری ہے۔ راجہ گدھ چونکہ حرام و حلال کے روایتی تصورات کو اون کرتا ہے اور اس میں جینیاتی مسائل کو تصوف کے حوالے کیا گیا ہے اس لیے ضیا دور میں وہ بھرپور چل گیا۔ گرگ شب اڑان بھرنے سے پہلے ہی پابند ہو گیا کیونکہ اس کا موضوع شجرِ ممنوعہ ٹائپ کا تھا۔ ہاں ایک قدر دونوں میں یہ مشترک ہو سکتی ہے کہ اپنے وقت کے حساب سے ہم عصر مین سٹریم ادب میں دونوں ناول بولڈ قسم کے تھے۔ سنسر بورڈ کی قینچی گرگ شب پہ شاید اس لیے چل گئی کہ ادھر گرفت آسان تھی، راجہ گدھ پہ اس لیے نہ چل سکی کہ چند مناظر کو نکال کر پورا ناول وہی نظریات اون کرتا تھا جو اس دور حکومت کے پسندیدہ تھے۔ خیر وہ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہیں۔ فی الحال یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر آپ نے اکرام اللہ کی وہ کتابیں بھی نہیں پڑھیں جو کسی کو بین کرنے کا خیال نہیں آیا تو بسم اللہ کیجیے، انگریزی والا ورژن تو ”ریگریٹ‘‘ (پچھتاوہ) کے نام سے ہر جگہ دستیاب ہے۔

(روزنامہ دنیا)

اپنا تبصرہ بھیجیں