ممتاز ادیبہ بانو قدسیہ سے دلچسپ انٹرویو

بانو قدسیہ کے گھر’’داستان سرائے‘‘ میں ہر جمعہ کے دن ان کے ملنے والوں کا رش ہوتا ہے ،جو اپنی مصروف زندگی کی گاڑی کو ’’داستان سرائے‘‘ کے دروازے پر روک کربانو قدسیہ سے ملنے آتے ہیں،ان کی باتیں سنتے ہیں اور اپنی زندگیوں میں ان کے کہے کے مطابق تبدیلی لانے کی کوشش کرتے ہیں۔جب ’’دنیا ‘‘ کی ٹیم ان کے گھرپہنچی تو وہ اپنے ملنے والوں سے ملنے کے لئے اپنے وسیع ڈرائنگ روم میں تشریف لا چکی تھیں،باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ہر ایک سے بڑی محبت اور شفقت سے حال چال پوچھتی رہیں،ہر نئے آنے والے کو وہ پورے دھیان کے ساتھ سنتیں اور پھر اپنی گفتگو کا سلسلہ جوڑ دیتیں۔’’داستان سرائے‘‘کے اندر موجود ہر فرد بانو آپا کو جس محبت اور عقیدت سے سن اور دیکھ رہا تھا۔وہ ان کی شخصیت اور فن کے لئے ایک نذرانہ عقیدت ہی تھا۔’’دنیا‘‘ کے قارئین کے لئے ہم نے دوبار بانوآپا سے ملاقات کی ۔ اس دوران ان سے جتنے سوال بھی کئے گئے انہوں نے سوالوں کی سختی اپنے لہجے کی نرمی میں ملا کر ختم کر دی اور خوبصورت جواب دئیے۔ بانو قدسیہ اردو ادب کی مشہورو معروف ادیبہ ہیں۔ انہوں نے اردو اورپنجابی زبانوں میں ٹیلی ویژن کے لیے بہت سے ڈرامے لکھے۔ اْن کا سب سے مشہور ناول ’’راجہ گدھ‘‘ ہے۔ اْن کے ڈرامے’’ آدھی بات‘‘ کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔وہ25سے زیادہ کتابیں لکھ چکی ہیں۔فلسفہ،نفسیات اور روحانیت …ادب میں ان کے موضوعات رہے ہیں۔انہیں بہت سے دیگر اعزازات کے ساتھ حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ۔بانو قدسیہ کے بچپن میں جھانکیں تو ان کے بقول’’میراتعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا۔ والد زراعت میں بیچلر کی ڈگری رکھتے تھے۔ اْن کا انتقال میرے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔تقسیم پاکستان کے بعد میں اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آ گئی۔لاہور آنے سے پہلے میں مشرقی بھارت کے صوبہ ہماچل پردیش دھرم شالا میں زیر تعلیم رہی۔ میری والدہ بھی تعلیم یافتہ خاتون تھیں،اس لئے انہوں نے میری تعلیم اور تربیت دونوں کے راستے میں کسی رکاوٹ کو جگہ نہ بنانے دی‘‘۔ بانو قدسیہ نے نامورادیب اشفاق احمد سے شادی کی۔اور اسے ہی وہ اپنی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دیتی ہیں۔’’میری اور اشفاق صاحب کی شادی ان کی پسند سے ہوئی،اسے محبت کی شادی بھی کہا جاسکتا ہے،لیکن میں اس کو اپنی طرف سے محبت کی شادی کا نام نہیں دے سکتی۔میرے لئے ان کی حیثیت محبت سے کہیں زیادہ تھی۔لیکن انہوں نے میرے لئے بہت بڑی قربانی دی ۔ اپنے گھر والوں کی مخالفت کے باوجود مجھے اپنی زندگی میں باعزت مقام دیا اور ساری عمر اس کا بھرم رکھا۔‘‘ اشفاق احمد کا ادب میں مقام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ان کی لکھی گئی منفرد تحریروں نے اردو ادب کو نئی شکل اورجہات سے متعارف کروایا۔روحانیت کے موضوع پر لکھی گئی اشفاق احمداور بانو قدسیہ کی تحریروں نے ایک بڑے حلقے کو متاثر اور مرعوب کیا لیکن وہیں ان کی ایسی تحریروں پر ایک بڑے سیکولراور لبرل حلقے کو بہت سے تحفظات بھی ہیں۔ان کے مطابق جنرل ضیاء کے مارشلائی دور ِ حکومت میںبانو قدسیہ اوران جیسے دوسرے مصنفین جن میں اشفاق صاحب،قدرت اللہ شہاب اورممتاز مفتی جیسے لوگ ہیں،انہوں نے اپنا فرض بہتر انداز میں نبھانے کی بجائے خدا کی تلاش کے فلسفے سے لوگوں کو روشناس کرانے کی ٹھانی،انہوں نے لوگوں میں حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے لوگوں میں صبر اور برداشت کا مادہ بڑھانے کی کوشش کی،بہت سے لوگوں کا اعتراض ہے کہ ایسے مضبوط لکھنے والوں نے اپنے فرض سے نظریں چرائیں اور اپنی تحریروں کو معاشرے کے پسے ہوئے افراد میں خودی پیدا کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا۔جب بانو قدسیہ سے اس بارے میں پوچھا گیا کہ آپ نے ایک بڑے طبقے کی تنقید سہی ہے،مخالفت بھی لی ہے۔ خود آپ کیا سمجھتی ہیں کہ اس کام کو کرنے کے پیچھے کیا خاص فلاسفی تھی جسنے آپ سے روحانیت پر کام لیا ؟اس بارے میں بانو قدسیہ کہتی ہیں’’یہ اعتراضات کرنے والوں کا مسئلہ ہے،بہت زیادہ لوگ ہیں جو اس طرزِتحریر کی وجہ سے ہم سے محبت بھی کرتے ہیں،ہم نے ان لوگوں کو دیکھا،ویسے بھی مصنف لکھتے ہوئے اگر دوسروں کی تنقید،سوچ،رویے اوراعتراض جیسی باتوں کو ذہن میں رکھے گا تو پھر لکھ نہیں پائے گا،یا اگر لکھ بھی لے گا تو وہ تحریراس کی ذات کی عکا س ہو گی نہ ہی اس کی سوچ کا مظہر۔ہم لوگوں نے جو بہتر سمجھا لکھااب یہ نقادوں کاکام ہے کہ وہ ہمارے کام کو پرکھیں اور اپنا کام کریں۔‘‘مطلب آپ ان لوگوں کے اعتراض کو بے بنیاد قرار دینا چاہتی ہیں۔؟’’یہ میرا مسئلہ ہی نہیں ہے کہ میں اس پربات کروں۔میں نے روحانیت کا راستہ اس لئے اپنایا کہ مجھے یہ اچھا لگا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جو ہمارا مذہب اسلام ہے،یہ سیرتِ پر مبنی ہے ،اور اس میںان پڑھ لوگوں کے لیے زیادہ راستے اور امن ہے۔ ہم بنا سوچے پرکھے سوالوں میں جائے نبیﷺ کو مانتے ہیں۔ان کی باتوں اور ان کی تعلیمات کو مانتے ہیں تو پھر سوال جواب کی طرف کیوں بھاگیں ۔سب علم چھوڑ دو تاکہ اللہ کا علم حاصل ہو سکے۔ دو چیزیں بہت مختلف ہیں اسلام میں جو دوسرے کسی مذہب میں نہیں ہیں ایک تو یہ ہے یہ عشق کا راستہ نہیں ہے۔ عشق اللہ کے نبی کریں، اللہ سے۔ عشق ہم عام انسانوں کے کرنے کی چیز نہیں ہے،کیوں کے ہم اس کے قاعدے قانون نہیں نبھا سکتے۔یہ میرا اور آپ کا راستہ نہیں ہے ہمارا راستہ محبت ہے۔ محبت کریں جس میں تواتر ہے، جیسے ماں کی محبت ہے۔ ماں بچپن میں بھی محبت کرتی ہے اور بڑھاپے میں بھی۔ 90سال کی ماں رات ہونے پر بہو کی باتیں سنتی ہے جب اس سے اپنے50,55سالہ بیٹے کا بے چینی سے پوچھتی ہے کہ خدا خیر کرے اندھیرا ہو گیا ہے،میرا بچہ نہیں آیا۔ماں کی محبت میں تواتر اور ایک تسلسل ہوتا ہے۔ عشق میں تسلسل نہیں ہوتا آج ایک لڑکی سے بڑا عشق ہو گیا،اس کے لئے مرنے مارنے کے دعوے ہو گئے، اور دس سال بعد اس کی شکل بھی نہ پہچان سکیں۔ یہ جو عشق میں شدت پائی جاتی ہے اسے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع کیا ہے۔ یہ کام صرف نبیوں کے کرنے ہیں وہ عشق بھی کرتے ہیں اور تواتر بھی کرتے ہیں۔ ہم نہیں کرپاتے،ہم نہیں کرسکتے اس لئے وہ کام کریں جو بہتر انداز میں کرسکتے ہوں،ہم جیسوں نے وہی کیا۔‘‘ آپ کو اس چیز کا کیسے احساس ہوا کہ آپ نے یہ کام کرنا ہے اور ان راستوں پرچلنا ہے؟’’یہ ایک بہت لمبی کہانی ہے لیکن آپ پسند کریں تووہ میں آپ کو بیان کر دیتی ہوں۔ بات یہ ہے کہ 1980ء میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک ایکسچینج پروگرام شروع ہوا۔ اس پروگرام میںیہاں سے کچھ ادیب امریکہ جاتے تھے اور ان کو وہاں امریکہ کے مختلف خاندانوں کے ساتھ ان کے گھروں میں ٹھہرایا جاتا تھا ۔اور وہاں کے لوگوں کو کہا جاتا تھا کہ ان کو مرعوب کریں کہ امریکن کلچر کتنا خوبصورت ہے اور پاکستانی کلچر تو کچھ بھی نہیں ہے اس کلچر کے سامنے۔اشفاق صاحب بھی اس پروگرام کے تحت امریکہ گئے اور امریکیوں کے اخلاق و کلچر سے کافی متاثر ہو کر آئے تھے۔جب وہ وہاں سے آئے تو جواب میں ایکسچینج پروگرام کے تحت ہی ان کے لوگ ہمارے ہاں بھی آتے رہے۔ پاکستان میں جب امریکہ سے لوگ آیا کرتے تھے تو مسئلہ یہ تھا کہ یہاں پر ایسے کوئی گھر نہیں تھے،جو Properly پاکستانی کلچر کو بیان کر سکیں۔لیکن ہماری پوری کوشش ہوتی تھی کہ اپنے کلچر کے بارے میں انہیںکافی کچھ بتا سکیں اور متاثر کرسکیں۔اسی طرح وہ ہمارے مذہب کے بارے میںبھی جاننے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی پروگرام کے تحت ہمارے ہاں ایک لڑکا آیا،جس کے گھر اشفاق صاحب امریکہ جاتے رہتے تھے۔ اس کی ماں کا نام ماریہ ہیزل تھا،وہ بوڑھی خاتون تھی وہ تو نہ آ سکی لیکن اس نے اپنا بیٹا باب ہیزل بھیج دیا ۔ وہ ہمارے ہاں جس کمرے میں ٹھہرااس کا نام’کاسنی کمرہ‘ ہے۔’کاسنی کمرہ‘ وہ کمرہ ہے جس میں قدرت اللہ شہاب رہا کرتے تھے۔ اس کمرے کی ہر چیز میں کاسنی رنگ نمایاں تھا،کمرے میں قالین‘ پردے‘ پلنگ پوش سبھی کاسنی ہے اسی لیے اس کمرے کو ’کاسنی کمرہ‘ کہتے ہیں۔ یہ کمرہ شہاب صاحب کی پسند کے مطابق بنایا گیا تھا۔ اور اسی کاسنی کمرے میں ہی باب ہیزل کو ٹھہرایا گیا۔ہم سب ناشتا ساتھ کرتے تھے۔ ناشتا کرنے کے بعدمیں ڈرائنگ روم میں جہاں ہم اس وقت بیٹھے ہیں، یہ جو یہاں صوفے اور چوکے پڑے ہیں… میں یہاں آ کران کے پاس کھڑی ہو جاتی اور باہر دیکھنے لگتی تھی۔ باب ہیزل اکثر میرے پاس آ کھڑا ہوتا۔وہ کہتا! ہم امریکن ہرکام میں بہت آگے ہیں اورہمارا مذہب مسیحیت محبت اورامن کا درس دیتا ہے۔تو پھر اسلام سب سے بہتر اور مختلف کیسے ہوا؟۔ میں اسے کہتی کہ اسلام کہتا ہے کہ اللہ ایک ہے۔ تو وہ مجھے کہتا کہ کیا عیسائی کہتے ہیں کہ خدا دو ہیں، یا پھر یہودی کچھ یوں کہتے ہیں کہ اللہ دو ہیں؟۔ میں چپ ہو جاتی بڑی پریشان ہو جاتی ۔تو دوسرے دن وہ پھر آ جاتا پھر کہتا کہ بتایئے کہ اسلام میں کون سی ایسی چیز ہے انسانوں کے لیے ،جو کسی دوسرے مذہب میں نہیں ہے۔؟ اور یہ آخری مذہب بنا ہے تواس کے پیچھے کیا خاص وجہ ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔ میں جب بھی اس سوال کا جواب دیتی ، بڑا نالائق اور فضول سا ہوتا۔ میرے پاس کوئی ایسا جواب نہیں تھا جو اسے لاجواب کر سکتا اور مجھے مطمئن ۔ایسے ہی دنوں میں ایک دن میں یہ سامنے والے لان کی طرف منہ کرکے کھڑی تھی۔اس لان میں ایک درخت لگا ہوا تھا جس کا نام ’’سُندری کا درخت‘‘ تھا۔ سُندری کا درخت وہ درخت ہے جس کی لکڑی سے سارنگی بنتی ہے۔ میں ’’سندری‘‘کو دیکھتے ہوئے اپنی سوچوں میں گم تھی کہ باب ہیزل آ گیا اور آتے ہی مجھے زچ کرنے لگا۔ اس نے مجھ سے وہی سوال دہرایا کہ اسلام کیسے بہتر ہے دوسرے مذاہب سے؟… تو آپ یقین کریں کہ اس سندری کے درخت میں سارنگی بجنے لگ گئی اور آواز آنے لگی کہ رزقِ حرام‘ رزقِ حرام…مجھے نہیں پتا یہ آواز کیسے آئی لیکن میں نے اسے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اسلام کہتا ہے کہ رزق حرام نہ کھائو …ورنہ تمہاری اولاد اور تمہاری آنے والی نسلیں پاگل اور دیوانی ہو جائیں گی۔ تو جیسے ہی یہ جواب میں نے اسے دیا تو وہ مجھے حیرانگی سے دیکھنے لگا…تھوڑی دیر بعد بولا، ٹھہریں بانو آپا !میں ابھی آتا ہوں۔میں وہیں کھڑی رہی،اب میں مطمئن تھی،میں اس کو وہ جواب دے چکی تھی،جس کی تلاش میں،میں خود بھی تھی۔ وہ پندرہ منٹ بعد واپس آیا اور آ کر کہنے لگا ! مبارک ہو بانو آپا میں مسلمان ہو گیا ہوں۔باب نے اپنا اسلامی نام احمد رکھا۔ یہ رزقِ حرام کا پہلا Miracle دیکھا میں نے۔ اور دوسری صبح جب میں اوپر پڑھنے کے لئے گئی تو اوپرایک کتاب پڑی ہوئی تھی جس پر لکھاتھا ’’راجہ گدھ‘‘۔ آپ یقین کریں کہ وہ ناول میں نے اوپر ہی بیٹھ کرایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پر مہینہ ڈیڑھ مہینہ میں ختم کیا ۔اور پھر وہ چھپ کے آپ لوگوں کے سامنے آگیا،اسے بہت پزیرائی بھی ملی ۔لیکن میں اسے ناول نہیں ایک معجزہ سمجھتی ہوں۔ ‘‘ بانو آپا کا لکھا گیا شاہکار ناول ’’راجہ گدھ‘‘کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے،اسے ناقدین اردو ادب کے بڑے ناولوں میں شمار کرتے ہیں،’’راجہ گدھ‘‘ کا ہیروآفتاب حلال اور حرام کی جنگ میں پھنسا رہتا ہے لیکن انجام میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے پیدا ہونے والے Abnormal بیٹے کو کہانی کے حساب سے اس کے گناہوں کی سزا قرار دیا گیا۔جب بانو آپا سے یہ سوال کیا گیا کہ اسلام کی رو سے ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہر انسان کو اس کے اعمال کی سزا خود ہی ملنی ہے،اپنا کیا ہوا عمل اچھا یا برا اس کی سزاو جزا کا وہ خود حق دار ہوگا …تو ایسی صورت حال میںآپ کیا سمجھتی ہیں کہ اس کے بیٹے کی صورت میںآفتاب کو سزا ملنا انصاف پر مبنی ہے یا جیسے ابھی آپ نے کہا کہ حرام خوری کی سزا میں آئندہ نسلیں پاگل ہو جائیں گی ۔یہ آپ کے’’ راجہ گدھ‘‘ کا Themeیا نچوڑ بھی ہے۔ آپ کیا سمجھتی ہیں کہ آنے والی نسلوں کو بزرگوںکے کئے اعمال کی سزا ملنا ایک درست فارمولاہے۔بانو قدسیہ کا کہنا تھا ’’یہ اللہ کا Formula ہے جب اللہ نے ایک بار کہہ دیا کہ آپ حرام نہ کھائیں۔ تو نہ کھائیں ورنہ یہ سزا بھگتنی ہی پڑے گی۔‘‘تو کیا یہ لازمی ہے کہ یہ سزا ہی ہو،امتحان بھی تو ہو سکتا ہے؟ اس پر بانو آپا کہتی ہیں۔’’انسان امتحان میں بھی فیل ہو جاتا ہے۔ ہم نے ماضی میں دیکھا بہت سے نیک لوگ گزرے،حتیٰ کے ان کے آبائو اجدادبھی نیک تھے لیکن ان کی اولادوں کوایسے حالات دیکھنے پڑ جائیں تو اس پر کیا کہیں گی آپ؟بانو قدسیہ کہتی ہیں’’ جب وہ رزقِ حرام کھائیں گے تو ہی مشکلات آئیں گی۔ ‘‘ کیا کسی کے عمل کی سزا اولاد کو ملنا ٹھیک راستہ ہے؟ ’’(بانو آپا مسکراتے ہوئے)تو جب آپ کی اولاد کو آپ کی جائیداد سے پیسہ ملتا ہے آپ کی خوشیاں ملتی ہیں، وہ تو ٹھیک ہے ؟ارے بھئی اگر آپ کے اعمال حرام پرمبنی ہوں گے تو آپ کی اولاد ضرور سامنا کرے گی جیسے آج کی جنریشن کر رہی ہے ،یہ طالبانائزیشن کا مرض ہم دیکھ رہے ہیں، ہمار ے چاروں طرف دہشت گردی ہو رہی ہے۔ ان کے بڑوں سے کہیں بھول ہوئی ہے ،ہم غلطی مان کر توبہ نہیں کرتے معافی نہیں مانگتے،تبھی ہماری نسلیں سزا بھگتتی ہیں۔آپ کا کیا خیال ہے،یہ آج کے لوگ جو عمل کررہے ہیں ان کو سزا نہیں ملے گی،ان کی اولادیں ضرور Sufferکریں گی۔‘‘ آپ کی تحریروں میں عورت کا کردار بہت کمزور اور پچھلی سیٹوں پر بیٹھنے والوں جیسارکھا نظر آتا ہے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ کہہ رہی تھیں کہ مذہب میں عورت کا نام مرد کے بعد آتا ہے،وہ مرد کے پیچھے کھڑی نظر آتی ہے۔ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ Biologically ایسا ہے کہ عورت کا جسم اور ذہن Medically کم اور کمزورہے یا اللہ کی طرف سے ایسا ہے،آپ نے عورت کو کمزور بنا کر پیش کیوں کیا ہے؟بانو قدسیہ مضبوطی سے بولیں ’’عورت کا نام اور نمبر خدا نے خود مرد کے بعد رکھا ہے۔اسے مرد کے بعد بنایا ہے۔مرد اور عورت کو اللہ نے ایک جوڑا بنایا ۔ مرد عورت کی کفالت کرتا ہے، مطلب پیسہ لا کر دیتا ہے۔ مرد اس لیے باہر کام کرتا ہے تاکہ عورت کو باہر نہ جانا پڑے ۔ عورت شرم و حیا کے ساتھ گھر پر رہے، بچوں کی پرورش کرے۔یہ دونوں کے کام اور کردار کی تقسیم ہے جو خدا کے بنائے نظام میں کی گئی ہے۔ لیکن آج کی عورت یہ کہتی ہے کہ میں نے مغرب سے سیکھا ہے ، میں اپنا کام خود کروں گی۔ میں اپنے لئے خود کما لوں گی …تم کون ہوتے ہو،جو مجھ پر رعب جھاڑو…… تو اس کے نتائج میں یہ ہوتا ہے کہ مرد دو‘ تین‘ چار شادیاں کر لیتا ہے وہ بے راہ رو جاتا ہے۔ پھربدلے میں عورت بھی ایسی ہی زندگی گزارنا چاہتی ہے جو کہ کسی صورت میں عورت کو Suit نہیں کرتی۔ کیونکہ اس طرح اس کی پرورش پر حرف آتا ہے، اگر عورت کمانے والی ہے تو اسے ہرگز یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ اب سب کچھ ہے۔ عورت اگر دس ہزار کما رہی ہے اور شوہر 1500 بھی کما رہا ہے تو عورت کے لیے اس کے 1500 کی بہت قدر ہونی چاہیے۔ بچوں کی پرورش تب ہوتی ہے جب شوہر باہر سے کما کر لائے اور بیوی گھر پر بچوں کی پرورش کرے۔ شوہر کو خدا نے مجازی خدا کا رتبہ دیا ہے تو عورت کو ہمیشہ اس بات کو ماننا چاہیے۔جو عورتیں اپنے شوہر کو ہی مجازی خدا مان لیں وہ خدا کی ہو جاتی ہیں۔ جو مرد خدا کی تلاش میں نکلتے ہیں وہ اسے پا لیتے ہیں،لیکن سب سے پہلے اس کی مانتے ہیں،بنا سوال کئے، بنا کوئی شرط رکھے۔ہمارے ہاں یہی مشکل ہے کسی کو بھی مان لینا بہت مشکل ہے۔ بیوی کی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ شوہر کی ماننے والی بن جائے اس سے زندگی بہت آسان ہو جائے گی۔ وہ اپنے شوہر کی جو نالائق باتیں کر رہاہو ان کو بھی دل سے مان لے تو خدا تک کا راستہ پا جائے گی۔‘‘ جوتصوف ہمیںآپ کی ‘ قدرت اللہ شہاب کی اور اشفاق صاحب کی تحریروں میں ملتا ہے۔ہ سکون سے زیادہ فرار کی جانب جاتا نظر آتا ہے۔آپ کے نزدیک تصوف سکون ہے یا فرار ہے؟ اس سوال پر بانو آپا نے کہا’’تصوف میں یہ دونوں ہی صورتیں پائی جاتی ہیں۔ جو لوگ اللہ کو تلاش نہیں کرنا چاہتے وہ تصوف میں گھس جاتے ہیںاور عبادات کادکھاوا کرتے ہیں۔اپنے آپ کو ایک صوفی کے طور پر Establish کرواکے دنیا داری سے دور فرارکی راہ اختیار کرکے تصوف کی اوٹ میں چھپ جاتے ہیں۔لیکن آپ کبھی داتا دربار پہ جا کر دیکھیں وہاں جو اپنی چادر میں لپٹے ،چھپے عبادت کرتے ہیں ان کو بھی ہم نے دیکھا ہے،وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں وہ فرار نہیں ہے وہ بیٹھ کر اللہ کا راستہ تلاش کرتے ہیں‘‘۔ آج کل تھیٹر کا کلچر تیزی سے بڑھ رہاہے ۔ماضی میں آپ کی جتنی بھی کہانیوں کو ڈراموں کی شکل دی گئی وہ بہت پسند کئے گئے،اب آپ نے اس پر کام کرنا کیوںچھوڑ دیا ہے؟بانو آپا کہتی ہیں’’ میراخیال ہے کہ یہ Sitcom کا دور ہے اب لوگ ہنسنا چاہتے ہیں زیادہ Serious نہیں رہنا چاہتے۔ ‘‘ آج کل ایسی تحریریں نہیں لکھی جاتیں،جن سے زمانے میں بہتری اور مثبت سوچ کو بڑھاوا ملے کیا وجہ ہے۔’’ میں نے پہلے بھی کہا نہ کہ آج کل جو دور ہے وہ Sitcom کا ہے لوگ ہنستے رہنا چاہتے ہیں اور آنسوئوں کی طرف نہیں آتے۔ یہی تو فرق ہے ہماری Generation کا اور آج کی Generation کا۔ اسی لیے تو ہم نے خدا کی تلاش کے راستے کو چنا اور آج کی نسل کے مسائل مختلف ہیں،بہتری کہاں سے آئے گی۔‘‘ آپ کیا سمجھتی ہیں کہ ہم بہت سارے ادیبوں سے توقعات وابستہ رکھتے ہیں جیسے آج کل یہ کہا جا رہا ہے کہ جو ملکی حالات ہیں شاعروں اور ادیبوں کو ان کے حوالے سے لکھنا چاہیے۔ آپ کیا سمجھتی ہیں کہ شاعر یا ادیب سے ایسی توقع رکھنا ضروری ہے؟ ’’توقعات کسی سے بھی نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ وہ کام خودبخود کر دے تو ٹھیک لیکن توقعات رکھنا غلط ہے۔ توقعات تو اپنے بیٹے سے بھی رکھنا غلط ہے۔ ‘‘ آپ کے اوپر اشفاق صاحب کا بہت گہرا رنگ نظر آتا ہے اس کی کیا وجہ ہے۔’’ اشفاق صاحب ایسے شوہر تھے جنہوں نے ہمیشہ مجھے support کیا۔مجھے نئی سوچ،نئی پہچان دی،انہوں نے خود مجھ سے پہلے یہ سوچا کہ یہ صرف روٹی ہی نہ پکاتی رہے اس میں جو جوہر ہے وہ سب کے سامنے باہر آنا چاہیے تو اس طرح سے وہ میرے شوہر بھی ہوئے‘ میرے استاد بھی ہوئے‘ میرے باپ بھی ہوئے۔ ‘‘میں ان کو مانتی تھی،ان کو سب سے زیادہ اپنی زندگی میں اہمیت دیتی تھی تو مجھ پر ان کا رنگ نظر آنا فطری سی بات ہے۔میرا یقین ہے جو انسان ماننے والا ہوتا ہے وہ مضبوط ہوتا ہے اور جو نہ ماننے والا ہوتا ہے وہ کمزور ہوتا ہے۔ ‘‘ تو اس طرح کیا آپ سمجھتی ہیں کہ آپ خود اشفاق صاحب سے زیادہ Strong تھیں کیونکہ آپ ماننے والی تھیں۔ آپ ان کی مانتی تھیں؟ ’’(بانو قدسیہ ہنستے ہوئے)میں نے ان کے اور اپنے تعلقات،رفاقت پر کتاب ’’راہِ رواں‘‘ لکھ دی ہے۔ اس میں سب کچھ لکھ دیا ہے کہ میں نے ان کے ساتھ زندگی کیسے گزاری‘ ان سے کیسے محبت ہوئی اور کیسے ان کو ماننے والی بن گئی۔ مجھ سے منوانے والا اوپر اللہ اور نیچے اشفاق تھے۔‘‘کبھی جھگڑا نہیں ہوا آپ دونوں کے درمیان،یاکوئی جلن کے جذبات؟’’نہیں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ہم نے ایک دوسرے کو آگے بڑھنے کا راستہ دیا۔اشفاق صاحب نے مجھے ہمیشہ خود سے آگے چلنے کاموقع دیا۔میں نے ان سے کبھی جھگڑا کیا ہی نہیں۔‘‘مرد اور عورت کے رشتے میں عقیدت،محبت، مرعوبیت اور خوف کے جذبات ہو سکتے ہیں،آپ دونوں کے رشتے میں ان الفاط میں سے کون سا عنصر موجود تھا؟’’انہیں مجھ سے محبت تھی،اور مجھے عقیدت تھی۔‘‘کبھی آپ نے ان کی کسی بات کو ماننے سے انکار کیا۔’’کبھی ایسا نہیں ہوا،میں ان کو مان چکی تھی۔‘‘اتنی عقیدت آپ کے اندر آ کیسے گئی؟’’یہ عقیدت اور یہ رویہ خود اشفاق صاحب کے سلوک اور رویے نے میرے اندر بھر دیا تھا۔انہوں نے ہمیشہ مجھے عزت اور احترام دیا میں نے ان کے احترام کا احترام کیاوہ بہت اچھے رائٹر تھے لیکن اس سے بھی اچھے شوہر تھے۔ہمارا 50سال کا ساتھ تھا۔میں نے ان کی خاموشی سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ہم آپس میں بہت زیادہ باتیں نہیں کرتے تھے،اشفاق صاحب ہوتے تو آپ کو بتاتے کہ میں نے زندگی میں ایک بار بھی ان سے لڑائی نہیں کی۔مجھے جھگڑا کرنا آتا ہی نہیں تھا۔اس لئے ان کی مان لیتی تھی۔ بہت سے لوگوں کی رائے میں ایسا تاثر بھی ملتا ہے کہ آپ کی تحریروں سے اشفاق صاحب متاثر تھے،اور ان کے لکھے گئے بہت سے کام میں آپ کے انداز کی شبیہہ نظر آتی ہے۔ ا س پر آپ کیا کہتی ہیں؟’’ آپ ’’راہِ رواں‘‘پڑھ لیں تو آپ کے سامنے واضح ہو جائے گا۔وہ بہت منفرد انسان تھے۔انہوں نے مجھے میری زندگی میں میرے وجود سے متعارف کروایا۔ پہلی کہانی تب لکھی جب میں پانچویں کلاس میں تھی ،لیکن اس کے بعد یہ سلسلہ رک گیا۔شادی کے بعد ایک دن کچن میں کھڑی روٹیاں بنا رہی تھی تو اشفاق صاحب کہنے لگے تمہیں اور کوئی کام نہیں آتا،پہلے میں اس سوال پر حیران ہوئی،پھر میں نے کہا،کہانیاں لکھاکرتی تھی بچپن میں۔جس پر انہوں نے کہا کہ اب تم روز ایک افسانہ لکھا کرو گی اور روٹیاں پکانے کے لیے ہم کوئی اورعورت رکھ لیں گے۔ تو میں نے کہا کہ مجھے تو آتا ہی نہیں افسانہ لکھنا تو کیسے لکھوں گی۔ تو کہنے لگے کہ جب مچھلیاں پکڑتے ہیں تو دانہ ڈالتے ہیں۔ پہلی بار میں ایک یا دو مچھلیاں دانہ کھاتی ہیںلیکن اگر روزدانہ ڈالو تو کئی مچھلیاں آنے لگیں گی۔ اسی طرح پہلے دن لکھنے کے حوالے سے کم خیال آئیں گے لیکن پھرہر دن نئے نئے خیالات آتے رہیں گے۔ میں ماننے والوں میں ہوں تو میں نے اپنے شوہر کی بات مانی اور لکھنا شروع کیا۔ اوپر اللہ تھا جس نے مجھے راستہ دکھایا اور نیچے اشفاق صاحب تھے جنہوں نے مجھے Torch کے ذریعے راستہ دکھایا اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب لکھا کرو تو اس کا ایک وقت مقرر کر لوں پھر اس وقت میں چاہے تمہاری ماں آئے‘ تمہارا باپ آئے یا میں آئوں تب بھی نہیں اٹھنا۔ سب کو یہ کہہ دینا کہ جب میں لکھنا ختم کردوں گی تو میں آئوں گی۔میںنے ساری زندگی اسی فارمولے پر عمل کیا۔‘‘ کیا ایسا ممکن ہوتا ہے کہ روز ہی مقرر وقت پہ بیٹھ کر لکھا جائے کیونکہ اکثرسیانے کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے آپ کو کئی کئی دن خیال ہی نہ آئے کہ کیا لکھا جا سکتا ہے۔ اس پر وہ کہنے لگیں’’میں نے تو اشفاق صاحب کی بات پر عمل کیا اور جو انہوں نے مچھلیوں والی بات مجھے سمجھائی اسی کو مانا اور لکھنا شروع کیا ایک مقررہ وقت پر۔ پھر چاہے کوئی بھی آتا اس وقت میں‘ تب کسی سے بات نہ کرتی بعد میں جب لکھ لیتی تو پھر ان سے بات کرتی۔ ‘‘ قدرت اللہ شہاب سے آپ لوگوں کا بہت قریبی تعلق تھا‘ اس کے پیچھے کیا وجہ تھی؟ ’’یہ شہاب صاحب کا پیار اور مہربانی تھی۔ آپ یقین کریں کہ تقریباً ہر ہفتے وہ اسلام آباد سے اشفاق صاحب سے ملنے آیا کرتے تھے۔‘‘ آپ شہاب صاحب کی شخصیت کو کیسے بیان کریں گی؟ ’’وہ نہایت ہی شفیق‘ سچے انسان تھے۔کبھی کسی کے ساتھ زیادہ کھل کر نہ ملتے، ہمیشہ ایک فاصلہ رکھتے تھے ۔ وہ جب بھی ہمارے ہاںآتے تو کاسنی کمرے میں ٹھہرتے تھے۔ آپ یقین کریں کہ اس کمرے سے ان کی موجودگی میںکاسنی روشنی بھی آتی تھی۔ ‘‘ آپ نے اور اشفاق صاحب نے کمال تحریریں رقم کی ہیں کیا آپ کے بچوں میں بھی یہ شوق موجود ہے؟
بانوآپا کہتی ہیں’’جی ہاں! بالکل ان کے شوق بھی ہیں اسی طرف۔ میرا بڑا بیٹا امریکہ میں ہے اس کی بیٹیاں بھی باہر ہیں‘ وہ پڑھائی میں مصروف ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں،سب سے چھوٹا بیٹا تو میری بہت خدمت کر رہا ہے۔میں رات کو بھی بولوں تو بھاگ کے آ جاتا ہے میرا پتا کرنے۔ ‘‘کوئی پیغام دینا چاہئیں گی۔’’ انسان کے پاس ہمیشہ دو راستے ہوتے ہیں ایک راستہ بدی کا اور دوسراراستہ نیکی کا ہے۔ تو یہ انسان پر ہے کہ وہ اپنی زندگی کی ٹرین کو کس راستے پر لے کر چلتا ہے۔ انسان کو ہمیشہ توازن رکھنا چاہیے۔ اگر میں آپ سے محبت کرتی ہوں یا نفرت… تو میری محبت‘ میری نفرت پر غالب نہ آئے اور میری نفرت‘ میری محبت پر غالب نہ آئے تبھی سب ٹھیک رہے گا۔‘‘

(روزنامہ دنیا، لاہور)

اپنا تبصرہ بھیجیں