بیتے ہوئے دن یاد آتے ہیں

ایک روز ہمارے گھر میں زبیدہ آپا آگئیں۔ غالباََ وہ لاہور کے ڈی سی کی بیگم تھیں اور امی سے کسی تقریب میں ملی ہوں گی۔ لمبے برآمدے میں آپا زبیدہ بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔ اس وقت میں کالج کی طرف سے ریکٹ لے کر وارد ہوئی۔ شاید میں لان میں بنے ٹیوب ویل کا معائنہ کرنے چلی جاتی لیکن امی نے مجھے آواز دے کر بلا لیا۔
”یہ میری بیٹی قدسیہ ہے۔۔۔‘‘
آپا زبیدہ نے میرے سلام کا جواب خندہ پیشانی سے دیا۔
”آئو بیٹھو۔۔۔ کیا کرتی ہے؟‘‘
امی نے تعارف کرایا: ”بی اے کیا ہے، کنیئرڈ کالج سے۔ بے چاری کی فسٹ ڈویژن ماری گئی۔ بڑی افرا تفری میں امتحان دیاتھا۔ اب کوئی ڈھنگ کا بندہ ملے تو بیاہ ڈالوں ۔۔۔‘‘
آپا زبیدہ بولیں: ”نہ نہ مسز چٹھہ، ایسا ظلم نہ کریں پلیز۔۔۔ اسے ایم اے کرنے دیں۔ شادی کون سی بھاگی جاتی ہے۔ ذرا میچور ہو لینے دیں۔۔۔ ساری عمر پڑی ہے شادی کے لیے۔۔۔‘‘
”اچھا ایم اے تو کرا دوں لیکن کنیئرڈ کالج میں تو صرف بی اے تک تعلیم ہے۔۔۔‘‘
”کنیئرڈ کالج کیوں؟ گورنمنٹ کالج بھیجیں۔ وہاں ایم اے اُردو شروع کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ میں نے داخلہ لے لیا ہے۔ پطرس بخاری سارا کچھ دیکھ رہے ہیں۔ اچھی پڑھائی ہو گی۔ آپ بے فکر رہیں۔
”نہیں بابا!۔۔۔ مجھے تو صرف اس قدر فکر ہے کہ گورنمنٹ کالج میں co-education ہے اور میں۔۔۔‘‘
آپا زبیدہ بولیں: ”لیجیے میں وہاں ہوں۔ مرغی کے پروں تلے قدسیہ رہے گی۔ آپ خدا کے لیے فکر نہ کریں۔۔۔‘‘
بھائی ریزی نے مزاحمت کی لیکن امی نے اس کی پرواہ نہ کی۔ دوسری مزاحمت بابو محمد یعقوب کی طرف سے آئی۔ بابو محمد یعقوب جالندھر میں ہماری زمینوں کی دیکھ ریکھ کرتے تھے اور اب لیڈی میکلیکن کالج میں بابو جی از سر نو امی کے ہیڈ کلرک بن گئے۔ یہی بابو جی بہت بعد میں چشتیہ مسلک کے پیر بن گئے۔ ان کے دربار پر قوالی ہوتی تھی۔ لوگ نذرانے پیش کرتے تھے اور وہ اپنے مریدوں سے کہا کرتے تھے: ”بھائی رجوع کرو۔ رجوع کرو۔ سب جواب مل جائیں گے۔ سب شکوک رفع ہو جائیں گے۔ تم صرف رجوع کرو۔‘‘
سنت نگر میں جہاں ان کا ڈیرہ بن گیا، بڑی محفلیں ہوئیں لیکن امی، ریزی اور میں نے کبھی رجوع نہیں کیا۔۔۔ ہمارے لیے وہ ہمیشہ بابو جی رہے۔۔۔ امی جی کے شفیق ہیڈ کلرک۔ جب انہیں پتا چلا کہ میں ایم اے اُردو کرنے گورنمنٹ کالج جانا چاہتی ہوں تو انہوں نے امی سے کہا:‌ ”ویسے تو جی مجھے دخل دینے کی کوئی ضرورت نہیں، دیکھ لیجیے آپ بہتر سمجھتی ہیں۔ لیکن مخلوط تعلیم میں بیٹی کو بھیجنا، میرا خیال ہے کہ۔۔۔ عقلمندی نہیں ہے۔‘‘
امی نے پتا نہیں کیا محسوس کیا لیکن معاملے کو Dismiss کردیا اور تنخواہوں کے کاغذ سائن کرنے میں مشغول ہو گئیں۔ گورنمنٹ کالج میں داخلے کے لیے امی کو ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ نے بھی منایا۔ وہ گورنمنٹ کالج میں پڑھاتے تھے۔ عربی کے سکالر تھے اور ایم اے اُردو کو پہلے Batch میں عربی کی کلاس انہی کی ذمہ داری تھی۔ ایک روز امی سے کہنے لگے: ”آپا جی آپ کیا سوچ رہی ہیں؟ فوراََ قدسیہ کو داخل کرائیں۔ وقت بدل گیا ہے، اب لڑکیوں کا وقت بھی قیمتی ہے۔ پاکستان کو تعلیم یافتہ خواتین کی ضرورت ہے۔‘‘
”لیکن میں اس کی شادی کرنا چاہتی ہوں‘‘
”ذرا سوچیں! اگر آپ تعلیم یافتہ نہ ہوتیں۔۔۔ تو آج آپ بیوگی کے بعد بچوں کو لے کر کس کے پاس جاتیں؟ تعلیم تو جتنی ہو کم ہے۔‘‘
فیصلہ بڑی آسانی سے ہو گیا۔ ہمارے گھر میں فیصلے عورتوں کے ہاتھ میں تھے۔ اس مایا مچھندر میں ریزی اور بابو جی کی آواز ڈوب گئی۔ امی جی نے پرنسپل کرامت صاحب کو فون کیا اور میں کالج پہنچ گئی۔
کچھ باتیں گویا مقدر کا حصہ ہوتی ہیں۔ مجھے گورنمنٹ کالج میں اشفاق احمد سے ملنا تھا۔ میرے مستقبل کا تعین، وقت، امکانات سب اس بات میں پوشیدہ تھے کہ میں گورنمنٹ کالج پہنچوں۔ یہاں مجھے خاں صاحب سے ایک مقرر مقام پر ملنا تھا۔
اُدھر اشفاق صاحب کو گویا حکم ملا کہ وہ ایم اے اُردو کر لیں۔ وہ اس وقت تک منشی فاضل کر چکے تھے۔ مکتبہ جدید سے ان کی کتاب ”ایک محبت، سو افسانے‘‘ چھپ چکی تھی اور انہیں ہرگز ایم اے اُردو کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ جب میں گورنمنٹ کالج پہنچی، پرنسپل آفس میں پروفیسر کرامت موجود تھے۔ ان کی شخصیت میں بڑا میٹھا سا رعب تھا۔
پروفیسر کرامت صاحب نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کو کہا۔
آپ نے بی اے کہاں سے کیا؟
”کنیئرڈ کالج سے جی”
”اور بی اے میں کون کون سے سبجیکٹ لیے”
میں لجاجت سے بولی”اے کورس Maths اور اکنامکس”
”پھر بھئی تم ایم اے اُردو کر کے کیا کرو گی؟ Maths میں ایم اے کرو یا اکنامکس میں‘‘
”جی مجھے اُردو کا شوق ہے۔ میں رائٹر بننا چاہتی ہوں۔‘‘
وہ ہلکا سا مسکرائے اور بولے: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ پطرس بخاری صاحب نے ایم اے اُردو کا اجراء کیا ہے لیکن اب وہ یونیسکو چلے گئے ہیں۔ بہر کیف تم برسر صاحب سے مل لو ۔فیس وغیرہ داخل کروا دو۔ فارم احتیاط سے بھرنا۔۔۔ تھینک یو‘‘
میں نے دبی زبان میں شکریہ ادا کیااور ان کے کلرک کے پاس پہنچی۔ کھڑکی کے ساتھ لگ کر ایک نوجوان کھڑا تھا۔ گورا چٹا خوبصورت لڑکا جس نے کھڑکی کے ساتھ کہنی ٹیک رکھی تھی۔جس وقت میں وہاں پہنچی وہ فوراََ مئودب انداز میں ایک طرف ہو گیا۔ نظریں نیچی رکھیں اور مجھ سے بات کرنے کی کوشش نہ کی۔ جب میں فیس دے چکی تو برسر صاحب نے تعارف کے انداز میں کہا: ”بی بی یہ اشفاق احمد ہیں۔ یہ آپ کے ساتھ ایم اے اُردو کریں گے۔ ان کی فیس مٰیں نے ابھی جمع کی ہے۔۔۔‘‘
یہ میرا خاں صاحب سے پہلا تعارف تھا۔۔۔

پہلے دن کمرے میں کوئی پروفیسر موجود نہ تھا۔ لمبی میز پر سامنے کی طرف مولوی طوطا قمر صاحب بیٹھے تھے۔ لڑکیوں کی پشت دروازے کی طرف تھی اور اس وقت یہاں آپا زبیدہ اور ذکیہ بیٹھی تھیں۔ مجھے دیکھ کر آپا نے مجھے اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
ابھی کاپیاں کتابیں رکھ کر سیٹل ہو ہی رہی تھی کہ ایک گورا چٹا اطالوی شکل و صورت کا نوجوان اندر داخل ہوا۔ اس نے لٹھے کی شلوار، نیلی لکیروں والا سفید کرتا اور پشاوری چپل پہن رکھی تھی۔ وہ بڑی ملائمت کے ساتھ آگے بڑھا اور مردانہ قطار میں مولوی طوطا کے ساتھ بیٹھ گیا۔
چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر نوجوان نے اپنا تعارف کرانے کے انداز میں کہا:‌”خواتین و حضرات! میرا نام اشفاق احمد ہے۔ میں مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور سے آیا ہوں۔ ہمارے قصبائی شیر کا نام مکتسر ہے۔ میرے والد وہاں ڈنگر ڈاکٹر تھے۔ پھر رفتہ رفتہ حیوان ناطق کا علاج بھی کرنے لگے۔۔۔ ہم آٹھ بہن بھائی ہیں اور اس وقت میں موج دریا کے بالمقابل، 1۔مزنگ روڈ میں رہتا ہوں۔ میرے پاس ایک سائیکل ہے جس پر میں اس وقت آیا ہوں۔۔۔‘‘
یہ کہہ کر اشفاق احمد نے کلاس کے لڑکے لڑکیوں پر نظر دوڑائی۔ سب خاموش تھے۔ابھی Orientation کی کلاسوں کا رواج نہ تھا۔ لوگ اپنا تعارف، حدود اربعہ، ہسٹری بتاتے ہوئے شرماتے تھے۔ صرف اشفاق احمد نے سب کی سہولت کو مدنظر رکھ کر اپنا آپ تھالی میں رکھ کر پیش کر دیا۔
آپا زبیدہ اور مولوی طوطا نے غالباََ اسے شوخی سمجھا۔ ذکیہ جو بلند شہر سے آئی تھی، اشفاق احمد جیسے صاحب حسن وجمال سے متاثر ہوگئی۔ مجھے تو ویسے ہی متاثر ہوتے دیر نہیں لگتی۔لیکن میرے اندر بھی تھوڑا سا ردعمل پیدا ہوا۔ میں نے دل میں سوچا کہ مقابلہ سخت سہی لیکن میں محنت کروں کی اور بالآخر ضرور جیت جائوں گی۔
اشفاق صاحب ہم سب کی مدد یا رہنمائی کرتے رہتے تھے، لیکن ہمیں کسی شکر گزاری میں مبتلا نہیں کرتے تھے۔ میں ”ہمدردی‘‘ لفظ کو ”ھمدردی‘‘ لکھا کرتی تھی۔ اشفاق صاحب اپنی کاپی پر ہمدردی لکھ کر یوں آپا زبیدہ کو دکھاتے گویا اصلاح چاہتے ہیں۔ میری نظر پڑجاتی تو میں اصلاح کر لیتی، لیکن مجھ میں اتنی عقل نہ تھی کہ اعتراف شکست کرتی۔
ابھی Self-projection کی بیماری عام نہ ہوئی تھی اور خود ستائشی انداز زیست کو برا سمجھا جاتا تھا۔ خاں صاحب تو اس معاملے میں بہت ہی شرمیلے اور گونگے تھے۔ وہ زیادہ جانتے اور کم ظاہر کرتے۔ ان کی کتاب ”ایک محبت سو افسانے‘‘ چھپ چکی تھی، لیکن ان کے منہ سے اس کتاب کا ذکر بھی نہ سنا تھا۔ ان کی ذاتی لائبریری تھی جس میں ان گنت کتابیں تھیں۔ وہ اپنی کتابوں کو کوئی شو مارے بغیر کسی بچے کی طرح اٹھائے پھرتے۔ میں نے یونیورسٹی لائبریری کا نیا نیا کارڈ بنوایا تھا۔ یہ لائبریری انار کلی جانے والے راستے پر تھی۔ ایک روز جب میں لائبریری سے باہر نکلی تو برآمدے میں مجھے اشفاق احمد ملے۔ انہوں نے مجھے سلام کیا نہ نوٹس لیا۔ بس آہستہ سے بولے: ”کیا میں آپ کی کتابیں دیکھ سکتا ہوں‘‘
میں نے کتابیں پیش کر دیں۔ انہوں نے چند لمحے اوراق الٹ پلٹ کر دیکھے اور پھر بولے:‌ ”دیکھیے اگر آپ چاہیں تو ہم کتابیں Exchange کر لیتے ہیں۔ میں چند دن کے بعد آپ کو یہ ساری لوٹا دوں گا۔‘‘ جب میں کتابیں لے کر گھر آئی تو مجھے احساس ہوا کہ میں نے کورس کے متعلق درست چوائس نہیں کی تھی اور میں درست نہج پر کتابیں نہیں پڑھ رہی تھی۔ اشفاق صاحب نے مجھ سے جو کتابیں تبادلے کے طور پر لی تھیں، ایم اے کے مطالعے کی غرض سے بے کار تھیں۔ لیکن انہوں نے میری عزت نفس کا پاس رکھا۔ یوں میری انا مجروح کیے بغیر مجھ پر اپنی علمیت کا رعب ڈالے بغیر خاں صاحب نے مجھے تاریخ ادب اُردو، موازنہ انیس ودبیر، مولوی عبدالحمید شررکے ناول، محمد حسن عسکری کے افکار، پیش کر دیے۔ ان کتابوں کی آمدورفت سے اچانک میں خوفزدہ ہو گئی۔ ایک روز میں گھر جانے کے لیے برآمدے میں نکلی ہی تھی کہ اشفاق احمد کہیں سے آ گئے۔ ان کے ہاتھوں میں حسب معمول کتابیں تھیں۔ چہرے پر جلتی بجھتی مسکراہٹ تھی۔
”آپ نے یہ خطوط پڑھے ہیں؟‘‘
مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ کن خطوط کی بات کر رہے تھے؟
”جی نہیں۔۔۔‘‘
”یہ کورس کی کتاب نہیں ہے. ملینا Malena کے نام خطوط ہیں لیکن بڑے خوبصورت۔۔۔‘‘

وہ آئوٹ آف کورس بات کر رہے تھے. چوں کہ مجھے ان کی کتابوں سے فائدہ پہنچ رہا تھا، میں نے ملینا کے خطوط بھی پکڑ لیے۔ یہ خط جذبات میں بھیگے ہوئے بلکہ آنسوئوں میں سنے ہوئے تھے۔ لکھنے والے نے بڑی عاجزی سے ملینا کے حضور عرض کی تھی کہ: ”جس کرسی پر تم بیٹھ کر جاتی ہو وہ تمہارے جانے کے بعد بھی تمہارے وجود سے بھری رہتی ہے۔ جس کمرے میں سے تمہارا وجود گزر جاتا ہے وہاں تمہاری خوشبو سانس لینا دشوار کر دیتی ہے۔ ہر موسم میں، ہر جگہ تمھاری چھاپ لگی ہے۔ بتائو میں اس دیوانگی سے کیسے نجات پائوں؟‘‘
ان خطوط کو پڑھنے کے بعد میں چور سی بن گئی۔۔۔ اب مجھے کتابیں پکڑتے ہوئے خوف سا آتا تھا۔ وہ نہ ہو کسی دن کسی کتاب میں سے کوئی محبت نامہ نکل آئے اور پھر وہ خطوط مجھے اپنی والدہ کو دکھانا پڑیں۔ اب میں نے اس کا یہ راستہ نکالا کہ کبھی کتابیں لے لیتی کبھی انکار کر دیتی۔ رفتہ رفتہ جب کتابوں کی ترسیل میں تواتر نہ رہا تو اشفاق صاحب نے ایک اور راستہ نکالا۔
مجھے برآمدے میں روک کر انہوں نے سوال کیا:‌ ”آپ کے پاس دونی ہوگی؟‘‘
”جی۔۔۔ ہے‘‘
دے دیجیے… میری سائیکل پنکچر ہو گئی ہے‘‘
میں نے دونی نکال کر دے دی۔
بغیر شکریے کے وہ چپکے سے چلے گئے۔
انہوں نے ہتھیلی بڑھائی۔ دونی یوں وصول کی گویا کسی دربار میں خلعت سے نوازے گئے ہوں۔ پھر شان استغنا سے بغیر شکریہ ادا کیے لوٹ گئے۔ سفید ہتھیلی کے آگے پست سوال صورت بڑھنا اور بگڑے دل شہزادے کی طرح لوٹ جانا۔۔۔ دونی کا مثل جزیہ کے وصول کرنا اور برتھ ڈے کیک کی طرح قبول کیے جانا۔ ایک کندھا جھکا کر پشاوری چپلوں پر بوجھ ڈالتے ہوئے برائون رنگ کی آنکھوں والے کو تیکھی نظر سے دیکھنا اور پھر رو ہانسا ہو کر لوٹ جانا۔۔۔
یہ سب میری یاد کی چلمن پر بنی تصویریں ہیں۔ جب میرا جی چاہتا میں چلمن گرا کر اس کی سکرین پر بنی پرانی یاد کی تصویریں دیکھ لیتی۔ جب جی نہ چاہتا اس چق نما چلمن کو لپیٹ کر اوپر کر دیتی۔
آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں یادیں ایک عجیب و غریب رول ادا کرتی ہیں۔ ہر انسانی عمل کی طرح یاد کا طبائع پر مختلف اثر ہوتا ہے۔۔۔ اس کے خصائص بھی انسانی اعمال کے جملہ خصائص کی طرح اچھے بھی مرتب ہوتے ہیں اور ان میں برائی کا نمک بھی شامل ہوتا ہے۔
بابے لوگ کہا کرتے ہیں جو لوگ ماضی کی یاد اور مستقبل کے اندیشے میں مبتلا رہتے ہیں، وہ اپنے حال کو برباد کر لیتے ہیں۔ وہ حال کی گھڑی پر جو کچھ میسر ہے اس کا نہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں نہ حالیہ نقصان سے بچنے کی امید رکھ سکتے ہیں لیکن اس امر کو بھی کیا کِیا جائے کہ ماضی اپنی گہری چھاپ، یاد کی صورت چھوڑ ہی جاتا ہے اور اس کی گرفت سے آزادی ممکن نہیں۔ جیسے ساحل سمندر پر گیلے پیروں کے نشان ریت پر دور تک نکل جائیں۔ بنی نوع انسان زیادہ تر ایسے انبوہ کثیر سے بنا ہے جو نہ ماضی کی یاد میں بے قرار ہوتا ہے نہ مستقبل کے اندیشے میں مبتلا رہتا ہے۔ حال میں رہتا ہے لیکن عجیب بات ہے کہ اس کی حال میں مشغولیت بابوں جیسی نہیں ہوتی۔ بابے جب حال میں مشغول ہوتے ہیں تو غالباََ وہ حال کی گھڑی کو رب سے منسوب کر کے راضی برضا ہونے کو زندگی کا کندن بناتے ہیں۔

عام دنیا دار آدمی کو نہ رب کی آگہی ہوتی ہے نہ راضی برضا ہونے کافن آتا ہے. وہ گویا خالی الذہن ہو کر اپنی زندگی میں خوشی خوشی مگن، جسم کی ضرورت سے آگاہ، چھوٹے بڑے کپڑے ناپتا چلا جاتا ہے۔ نہ اسے مابعد کا خوف ہوتا ہے نہ نروان کا بھلیکا ستاتا ہے۔ نہ اسے جنت اور دوزخ ہی کے وسوسوں کا کوئی اندیشہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ ہری ہری دھوپ کی طرح حدِ نظر تک سبزہ پھیلائے رکھتے ہیں اور آنکھ کا حالیہ منظر حسین رکھتے ہیں۔ ان لوگوں سے ہٹ کر کچھ لوگ فنون لطیفہ کے شیدائی، امر ہو جانے یا امر کر دینے کے شائقین، بے قرار مضطرب۔۔۔ ایسے لوگوں کے لیے یادیں تخلیق کا باعث بنتی ہیں۔ ان کے لیے گزرے موسم، اَن کہی باتیں، اَن چھوئے جسم، ادھورے واقعات، دھندلے چہرے، چھوٹی چھوٹی وارداتیں، غیر محسوس حد تک ابھرنے والی خوشبوئیں، مسکراہٹیں، آنکھو ں سے لوٹ جانے والے آنسو۔۔۔ بستروں کی سلوٹیں، کھونٹیوں سے ٹنگے ہوئے پرانے کپڑے، پرانا ٹوتھ برش، ٹوٹا ہوا پین، کاغذوں پر ادھوری سطریں، سوکھے پن ہمیشہ با معنی رہتے ہیں۔
انہیں یادوں کی کھنکھناتی مٹی سے آرٹسٹ کبھی شعر لکھتا ہے کبھی مجسمہ بناتا ہے۔ کبھی صفحہ قرطاس پر شناسا چہرہ، بھولی بسری گلی، اداس دریچہ بنا لیتا۔ گانے والے کی لَے میں اس کے سوزوگداز میں یہی یادیں ابھرتی ہیں اور سننے والے اور اس کے مابین ایک رشتہ استوار کر لیتی ہیں۔
یادوں کے ایندھن کے بغیر کبھی بااثر آرٹ جنم نہیں لیتا۔ اس گُندھی مٹی کے نہ ہونے پر کبھی مہاتما بدھ کا مجسمہ بنتا، جسے صدیوں بعد لوگ حیرت سے دیکھتے۔ یادوں کے بغیر ایسی Levitation ممکن نہیں جس سے ارضِ زمین کا گھیر دور تک نظر آ سکے۔۔۔
یاد ایک عمومی، اساسی بنیادی کیفیت ہے جو ہر دل پر اپنا وار کرتی ہے۔ محبت کی طرح یہ بھی ہر در پر دستک دیتی ہے۔ پھر ہر انسان اپنی طبیعت، کردار، جینز کی انجینئرنگ، موروثی افتاد طبع، تلاش کے مطابق اس یاد کو اپنے فائدے یا نقصان میں ڈھال لیتا ہے۔۔۔ کچھ لوگ یادوں سے ایسے ڈسے جاتے ہیں جیسے کوڑ یا کالے ناگ کا ڈسا پانی نہ مانگے۔۔۔ کچھ لوگ ان یادوں سے نئے دریچے کھولتے ہیں۔ دور کا منظر دیکھتے ہیں اور کھڑکی بند کر کے آرام سے سو جاتے ہیں۔


کتاب: ”بیتے ہوئے دن یاد آتے ہیں‘‘ از خورشید ربانی، اشاعت 2017ء، نیشنل بُک فائونڈیشن، اسلام آباد

اپنا تبصرہ بھیجیں