یہ صورت گر کچھ خوابوں کے – ڈاکٹر طاہر مسعود

”داستان سرائے‘‘ کی چپٹی ناک دباتے ہی مکان کے حلق سے دلدوز چیخ نکلی۔چند ہی ساعتوں بعد ایک معصوم صورت بچی نے دروازے کی اوٹ سے جھانکا۔مقصد نزول جاننے کے بعد بچی”ایک منٹ ٹھہرئیے!‘‘ کہہ کر تیزی سے دروازے کے پیچھے غروب ہو گئی۔
کشادہ ڈرائنگ روم میں ملازمہ میز پہ مشروب کا گلاس رکھ گئی۔ ایک منٹ،دو منٹ، پانچ منٹ، سات منٹ، انتظار کی گھڑی ٹک ٹک کر رہی تھی۔ میں صوفے میں دھنسا خیالات میں ڈوبنے لگا۔ذہن میں بنے ہوئے مختلف طاقچوں میں بڑے بڑے البم رکھے ہیں بھولے بسرے منظروں سے سجے سجائے۔
ایک گزرا ہوا منظر…
کراچی کے ایک فور اسٹار ہوٹل کے رنگین ماحول میں خوشبو دار پیراہن لہرا رہے ہیں۔ پنسل ہیل کی جوتیاں کھٹ کھٹ کرتی سیڑھیاں اترتی ہیں تو نگاہوں کے سامنے بجلی سی کوند جاتی ہے۔اس ایمان شکن فضا میں ایک سادہ و باوقار سی خاتون اپنے میاں کا بازو تھامے شانت طریقے سے کھڑی ہیں۔ ظاہری ٹپ ٹاپ سے بے نیازی کے باوصف دونوں ہی محفل میں منفرد دکھائی دیتے ہیں۔ سیدھے سادھے کھرے قسم کے دیسی لوگ۔مجھے یہ اچھے لگتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں ان میں کوئی ملاوٹ نہیں ہے۔ یہ اصلی گھی کے موافق ہیں۔ مزے مزے میں باتیں کرتے ہوئے ان کے گرد بھیڑ سی اکٹھی ہے۔ میاں مسلسل بول رہے ہیں اور خاتون چپ سی کھڑی ہیں، البتہ کسی کسی بات پر سر ہلا دیتی ہیں۔ دروازہ کھلا، سر پر دوپٹہ سنبھالتی ہوئی وہی خاتون داخل ہوئیں. ویسی ہی سادگی چہرے پرلمبی بیماری کے بعد ویسا ہی سکون جو کسی سرکاری ملازم کے چہرے پہ لمبی چھٹی گزارنے کے نتیجے میں پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ بانو قدسیہ ہیں۔ اشفاق احمد کی اہلیہ ”راجہ گدھ‘‘ اور ”شہر بے مثال‘‘ کی مصنفہ، ٹی وی کی مشہور ڈراما نگار، ایک گھریلو خاتون، تین بچوں کی ماں اور نہ جانے کن کن معززحیثیتوں میں زندگی گزارنے والی۔ 28نومبر1928ء کو مشرقی پنجاب کے گائوں فیروز پور میں پیداہوئیں۔ کنرڈ کالج لاہور سے 1948ء میں گریجویشن اور گورنمنٹ کالج لاہور سے 1950ء میں اُردو میں ایم اے کیا۔
بانو قدسیہ کو سکول کے زمانے ہی سے افسانے لکھنے کا شوق تھالیکن یہ وہ زمانہ تھا جب افسانہ لکھنا اور شاعری کرنا سخت معیوب بات سمجھی جاتی تھی۔وہ نصاب کی کتاب کے اندر چھپا کر ناول پڑھتی رہیں اور حوصلہ افزائی نہ ہونے کے باوجود اپنے شوق کو زندہ رکھا۔ اسے پروان چڑھایا۔ پہلا افسانہ ”واماندگی شوق‘‘ 1960ء میں”ادب لطیف‘‘میں چھپا۔ امتیاز علی تاج کے ڈرامے ”انار کلی‘‘ نے ان پرگہرے اثرات مرتب کیے۔ اسی سے ڈرامہ لکھنے کی طرف مائل ہوئیں۔ تین افسانوی مجموعے ”بازگشت‘‘، ”امر بیل‘‘، ”کچھ اور نہیں‘‘ اور تین ناولٹ ”ایک دن‘‘، ”موم کی گلیاں‘‘ اور ”پُروا‘‘ منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ اسٹیج، ریڈیو اور ٹی وی کے لیے لاتعداد ڈرامے تحریر کیے۔ ڈراموں کا ایک مجموعہ ”آدھی بات‘‘ حال ہی میں چھپا ہے۔ ان کے مقبول ٹی وی سیریلز میں ”ضرب جمع تقسیم‘‘، ”لگن اپنی اپنی‘‘، ”نیا دور‘‘ اور ”تماثیل‘‘ وغیرہ شامل ہیں ۔”آنچ‘‘ اور ”ایک گناہ اور سہی‘‘ جیسی فلموں کا سکرپٹ بھی تحریر کیا۔ موخرالذکر فلم پر حکومت نے پابندی لگا دی ہے۔
بانو قدسیہ یوں تو گزشتہ چوبیس سال سے لکھ رہی ہیں۔ اس عرصے میں انہوں نے بہت سے اچھے افسانے اور ناولٹ لکھے ہیں۔ ان کا تخلیقی جوہر ”راجہ گدھ‘‘ میں جس پختگی سے نمایاں ہوا ہے اس کی مثال ان کی پچھلی تخلیقات میں نہیں ملتی اور بقول سہیل احمد ”راجہ گدھ‘‘ میں بانو قدسیہ نے محض ایک دل چسپ قصّے کو بیان کرنا ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ قصّے کے بیان کو اپنے لیے ایک فنی امتحان بنا لیا ہے۔ اس فنی آزمائش میں چاہے انھیں ایک حد تک ہی کامیابی ہوئی ہو۔ سیدھی سادہ واقعیت پر مبنی چھوٹے موٹے دکھ درد اور اپنے جذبوں کی صلیب پر مصلوب ہوتے ہوئے کرداروں کی کہانی لکھتے لکھتے بانو قدسیہ نے ”راجہ گدھ‘‘ میں اپنے فن کی ایک ایسی جہت تلاش کر لی ہے جو ان کی عام فنی سطح سے کہیں بلند ہے۔ بانو قدسیہ کی تحریروں کے عام فنی عناصر یہاں بھی موجود ہیں۔ جذبوں کا ٹکرائو، جنس، جذئیات (جو کہیں کہیں بے جا طوالت اختیار کر لیتی ہیں) زیادہ تر متوسط طبقے کی عکاسی، مگر یہ عناصر اس سے پہلے ان کے فن میں نہ تو کبھی اتنی وسعت سے آئے تھے اور نہ ہی ان کی شکلیں اتنی تہہ دار اور پیچ دار ہوا کرتی تھیں۔ اس ناول کو بانو قدسیہ کی فنی صلاحتوں کا نقطہ کمال قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے چالیس پچاس منٹ کے انٹر ویو میں، مَییں نے بانو قدسیہ سے زیادہ تر سوالات ”راجہ گدھ‘‘ ہی کے بارے میں کیے۔ وہ ہر سوال کے خاتمے سے قبل ہی بول پڑتیں، کسی عجلت پسند طالبہ کی طرح۔ ملاحظہ ہو!

سوال: ”راجہ گدھ‘‘ ایک اہم ناول ہے جو قاری پر فکر کے نئے در وا کرتا ہے میں اس سلسلے میں ایک روایتی سوال سے گفتگو کی ابتدا کرنا چاہوں گا کہ اس ناول کو لکھنے کا خیال آپ کے ذہن میں کیسے آیا؟اور آپ نے اسے کس طرح سےwork out کیا؟
بانو قدسیہ: ممکن ہے دوسرے ادیب اس سوال کا بہتر جواب دے سکیں اور اپنے تخلیقی عمل کا تفصیل سے تجزیہ کر سکیں۔ میرا ایمان تو یہ ہے کہ جب اللہ کو اپنے بندے سے کوئی کام لینا مقصود ہوتا ہے تو وہ کام خود بخود انجام پا جاتا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا کہ ناول کا خاکہ بھی میرے ذہن میں مرتب ہو گیا۔ کردار بھی مل گئے اور ساتھ ہی حوالے بھی ہاتھ آگئے۔ عام طور پر لوگ اپنی کامیابیوں کو اپنی محنت کا ثمرتصور کرتے ہیں حالاں کہ محنت تو ناکام ہو جانے والے بھی کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسی کے ساتھ اللہ کی رحمت ہوتی ہے اور کسی کے ساتھ نہیں ہوتی۔ اگر میں آپ کے سوال کے جواب میں یہ کہوں کہ میں نے قوم کی خدمت کے پیشِ نظر ”راجہ گدھ‘‘ لکھا تو یہ بالکل درست نہیں ہو گا۔ ہاں کسی کی خدمت راہ مولا ہو گئی ہو تو نہیں معلوم۔

سوال: آپ کی ذات سے باہر کوئی ایسا مقصد کبھی موجود نہیں رہا جسے آپ نے اپنی تخلیقی کاوش کے ذریعے پانے کی خواہش کی ہو؟
بانو قدسیہ: میں لکھنے کے عمل کو خالصتاََ اظہار ذات کا عمل تصور کرتی ہوں بالکل اسی طرح جیسے کوئی خوش آواز لڑکا گائے بغیر اور چڑیا چہچہائے بغیر نہ رہ سکتی ہو۔

سوال:جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں ”راجہ گدھ‘‘ کا مرکزی خیال رزقِ حلال کے اسلامی تصور سے عبارت ہے۔ انفرادی سطح پر فرد اور اجتمائی سطح پر معاشرہ اخلاقی اور روحانی زوال سے اس لیے دوچار ہے کہ رزق حرام کو فروغ مل رہا ہے۔
بانو قدسیہ: جی ہاں!اس ناول کا بنیادی خیال یہی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس استدلال کی سطح پر ہی سہی لیکن ہمارے لیے اہلِ مغرب کو رزقِ حلال کی اہمیت سمجھانا اور قائل کرنا ممکن نہیں ہے۔ مذہب کے بہت سے احکامات ایسے ہیں جن کا ادراک محال ہے۔ اسی لیے ادب میں ماننے کا مقام ہے جاننے کا نہیں۔
مغرب کی تہذیبی برتری نے ہمارے مسائل کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جس کا نتیجہ دیکھیے کہ وہاں سے آنے والے ہر تصور پر آنکھیں موند کر آمنا صدقنا کہہ دیا جاتا ہے۔”راجہ گدھ‘‘ میں ایک جگہ پروفیسر سہیل کہتا ہے: ”میں جو تھیوری پیش کر رہا ہوں، وہ تمھیں عجیب و غریب لگ رہی ہے لیکن یہی تھیوری اگر مغرب پیش کرتا تو تم اسے فوراََ مان لیتے۔‘‘
میں نے اپنے ناول میں بھی یہی کہنا چاہا ہے کہ اگر ہم مغرب کے اثرات سے نکل کر رزقِ حلال کے عادی ہو جائیں تو صرف اسی تبدیلی کے زیراثر ہماری معاشرتی زندگی سے تمام خرابیاں دور ہو سکتی ہیں کیوں کہ انسانی زندگی میں ان تمام بے چینیوں کا سبب جو بالآخر جرائم اور خود کشی کی طرف مائل کرتا ہے رزقِ حرام ہے ۔میں نے ناول میں رزقِ حرام کے مختلف روپ دکھائے ہیں۔ زنا بھی اسی کا ایک روپ ہے جو انسان کو آخر کار مایوسی اور ناکامی کے اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے۔

سوال: ”راجہ گدھ‘‘ کا ایک حصہ تو قیوم، سیمی اور ڈاکٹر سہیل جیسے کرداروں کی کہانی پر محیط ہے۔ دوسرا حصہ جنگل کے ماحول میں پس منظر میں راجہ گدھ کی حکایت بیان کرتا ہے۔ یہ دونوں کہانیاں پہلا بہ پہلوآگے بڑھتی ہیں۔ دوسرے حصے میں مختلف پرندوں اور جانوروں کے ذریعے علامتی فضا کو جنم دیا گیا ہے۔ میں پوچھنا چاہوں گا ناول کا یہ علامتی حصہ ناول کی معنویت میں کس حد تک اضافہ کرتا ہے؟
بانو قدسیہ: آپ ناول کے جس علامتی حصے کا ذکر کر رہے ہیں ،اس میں زیادہ تر انسانی فطرت سے بحث کی گئی ہے اور انسانی فطرت کا رزقِ حلال سے نہایت گہرا تعلق ہے۔فطرت انسانی پر کسی کو گواہ بنائے بغیر موضوع کی وضاحت ناممکن تھی۔انسان چونکہ خود پر تنقید کا اہل نہیں ہے اس لیے میں نے بہت سوچ بچار کے بعد انسانی فطرت پر اس معصوم چیز کو شاہد بنایا جو اس کی تمام سطحوں کو واضح کر سکے اور ساتھ ہی ”راجہ گدھ‘‘ کی Analogy کی تکمیل کر سکے۔ ”راجہ گدھ‘‘ سے اگر اس کے علامتی حصے کو خارج کر دیا جائے تو ناول جو دو ٹانگوں پر کھڑا ہے، تو اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ جائے گی۔ ممکن ہے اس سے مرکزی کہانی کو کوئی زک نہ پہنچے لیکن ناول میں ادھورا پن پیدا ہو جائے گا۔
سوال: لیکن ناول کا یہ علامتی اور استعاراتی حصہ اس کی روانی اور بہائو کو متاثر کرتا ہے اور اس رکاوٹ کے باعث قاری جھٹکے لیتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور دونوں کہانیوں کو باہم مربوط کرنے میں اسے دشواری محسوس ہوتی ہے۔
بانو قدسیہ: ناول کا یہ حصہ ذہنی طور پر ناپختہ لوگوں کو رکاوٹ محسوس ہوتا ہو گا۔ ان کی مثال اس بچے جیسی ہے جو صرف کہانی پر توجہ دیتاہے اس کی معنویت سے اسے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ یہ مسئلہ صرف اسی ناول کو نہیں، ٹیلی وژن کے ان ڈراموں کو بھی درپیش ہے جن میں کسی فلسفے یا دقیق مسئلے کو چھیڑا جاتا ہے۔ لوگ فلسفے کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے اس لیے سکرین کے سامنے سے اٹھ جاتے ہیں۔ حالاں کہ اسی سنجیدہ مسئلے کے بیان کے لیے ساری کہانی کا ڈھانچہ تیار کیا جاتا ہے۔ بہت سے قارئین نے مجھے بھی بتایا کہ ”راجہ گدھ‘‘ میں جہاں جہاں رزق حرام کے فلسفے پر بحث کی گئی ہے وہ ان صفحات کو پھلانگ کر آگے بڑھ گئے۔ جب میں اپنے ناول پر اس نوع کے تبصرے سنتی ہوں تو میری سمجھ میں آ جاتا ہے کہ ہمارے ہاں دوستو فیسکی، میکسم گورکی اور ٹالسٹائی جیسے عظیم ادیب کیوں پیدا نہیں ہوئے؟

سوال: کیا ناول یا کہانی میں فلسفے کو زیریں لہروں کی طرح نہیں ہونا چاہیے؟ اس لیے کہ فکشن میں اگر فلسفہ غالب آ جائے تو پھر قاری فکشن کے بجائے فلسفے کی دقیق کتاب کیوں نہ پڑھے؟
بانو قدسیہ: یہ قطعی ضروری نہیں کہ ناول میں فلسفہ زیریں لہروں کی طرح ہو۔ کیا آپ نے دوستو فیسکی کو نہیں دیکھا جو انسانیت یا بہادری کے موضوع پر قلم اٹھاتا ہے تو صفحات کے صفحات سیاہ کر دیتا ہے۔ شیکسپیئرکے کردار بھی لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں اور شیکسپیئر انھیں تقریریں کرنے سے نہیں کرتا۔ نہ ہی اس بات سے خوفزدہ ہوتا ہے کہ تماشائی بور ہوکر چلے جائیں گے۔

سوال: ”راجہ گدھ‘‘ کا ہیرو قیوم (جو اینٹی ہیرو ہے) ناول میں ”راجہ گدھ‘‘ کی علامت ہے لیکن اس کردار کو علامتی بنانے کے لیے آپ نے راجہ گدھ کا کردار علا حدہ سے تخلیق کیا ہے تاکہ ان دونوں کے درمیان عادات و خصائل کی مماثلت ثابت کی جا سکے۔ کیا یہ ممکن نہ تھا کہ اس طریق کار کو اختیار کرنے کی بجائے آپ مرکزی کردار کا اس طرح سے پیش کرتیں کہ اختتام پر ناول کا ہیرو از خود گدھ کی علامت بن جاتا؟
بانو قدسیہ: ایسا ممکن تو تھا لیکن پھر کہانی معمولی اور مختصر سی رہ جاتی اور کہانی کے اختتام پر ایک فقرہ لکھ دینا ہی کافی ہوتا کہ ”اس طرح وہ راجہ گدھ میں تبدیل ہو گیا۔‘‘
دیکھیے! میں نے ناول کو جس ڈھنگ سے لکھا ہے اس کے لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ابھی تک اردو ادب میں انسانی فطرت پر کہانیاں نہیں لکھی گئی ہیں آپ سارا ادب چھان لیجیے ناول یا افسانوں میں آپ کو چند فلسفیانہ پیراگراف نظر آ جائیں گے لیکن پورا ناول کسی فلسفے کو بنیاد بنا کر نہیں لکھا گیا ہے میں نے تو صرف ایک کنکر پھینکا ہے۔ میرا خیال ہے کہ بائیس سے چالیس سال تک کی عمر کے قارئین کو سنجیدہ مواد پڑھوانے کی اشد ضرورت ہے۔ اب اتنا کافی نہیں کہ بستر پر لیٹ کر کہانی پڑھی اور چادر تان کر سو گئے۔ لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرنا ادیبوں کا اولین فریضہ ہے۔

سوال: ”آگ کا دریا‘‘ کے بارے میں کیا خیال ہے؟
بانو قدسیہ: قرةالعین حیدر انتہائی قد آور لکھنے والی ہیں لیکن اگر آپ ان معنوں میں پوچھ رہے ہیں کہ یہ کوئی دقیق ناول ہے تو ایسا بالکل نہیں ہے چوکنا ہو کر پڑھنے کی صورت میں یہ ناول آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے۔

سوال: ”راجہ گدھ‘‘ پر قارئین کا ردعمل کیسا رہا؟
بانو قدسیہ: لوگوں نے خیر مقد م کیا۔ انھوں نے مجھے خطوط لکھے اور اسے ایک نئے تجربے کے طور پر قبول کیا۔البتہ مجھے ان بچیوں کے تاثرات معلوم نہیں ہوسکے جو ابھی عمر کے پچیسویں برس میں ہیں ۔شائد وہ پچیس صفحات سے زیادہ نہیں پڑھ سکی ہوں گی۔

سوال: اس ناول کے کتنے کردار حقیقی وجود رکھتے ہیں؟
بانو قدسیہ: میں 56 سال سے مختلف قسم کے راجہ گدھ دیکھتی چلی آرہی ہوں اس کے باوجودکہ ہمارا معاشرہ حدودو قیود کا قائل ہے اور اتنی لبرل ازم ابھی نہیں آئی ہے کہ آپ عشق میں مبتلا ہو کر کسی لڑکی کو فون کریں اور اسے اسکوٹر پر بٹھا کر ساتھ لے جائیں۔ اس کے باوجود میرا مشاہدہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا ہر دوسرا لڑکا اور ہر بارہویں لڑکی راجہ گدھ ہے۔

سوال:”راجہ گدھ‘‘ کے بعض قارئین اس کو پڑھ کر ڈیپریشن کا شکار ہو گئے۔ ایک صاحب کے بہ قول اس ناول کا ایسا عجب تاثر تھا کہ میرا بھی چاہا کہ خودکشی کر لوں۔
بانو قدسیہ: ہر من ہیسے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا ناول پڑھ کر لوگ خود کشی کی خواہش کرنے لگتے ہیں اور یورپ میں دو تین واقعات ایسے بھی ہوئے ہیں۔ اگر ناول پڑھنے والے زندگی کی تاب نہ لا سکیں تو اس میں مصنف کا کیا قصور ہے؟ میرا خیال ہے کہ ایسے لوگوں کو درمیان میں ہی چھوڑ دینا چاہیے۔

سوال: آپ کے پاس اس مسئلے کا کوئی علاج نہیں ہے؟
بانو قدسیہ: میرے پاس کسی بھی مسئلے کا کوئی علاج نہیں ہے۔ پاکستان میں آج ٹیلی وژن کے ذریعے قہقہوں کو فروغ دیا جا رہا ہے لیکن ہم بھول رہے ہیں کہ کتھارسس کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے۔ جو سوسائٹی رونے سے گھبراتی ہے وہ بالآخر تنزل کا شکار ہو جاتی ہے۔ جس طرح ہنسنا ضروری ہے اسی طرح رونا بھی ضروری ہے۔

سوال: جب ہم آپ کے دو ناول ”شہر بے مثال‘‘ اور ”راجہ گدھ‘‘ کا بالترتیب مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں موخر الذکر ناول میں زبان و بیان پر عبور، تکنیک پر گرفت اور خیال میں گہرائی نظر آتی ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ آپ نے ان دانوں کے درمیان ایک طویل سفر طے کیا ہے۔
بانو قدسیہ: ان دونوں ناولوں کی اشاعت میں پندرہ سولہ سال کا فرق ہے لہٰذا ایسا تو محسوس ہونا چاہیے۔ علاوہ ازیں میں نے ”راجہ گدھ‘‘ پر بہت محنت کی ہے۔ جس کا اندازہ یوں لگائیے کہ میں نے اسے پانچ سال کے عرصے میں مکمل کیا۔

سوال: بعض حلقوں کی جانب سے ”راجہ گدھ‘‘ پر فحش نگاری کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ اس الزام میں کس حد تک صداقت ہے؟
بانو قدسیہ: دیکھیے قرآن میں زنا سے ممانعت کا حکم ہے اور اس کے مجرموں کے لیے کوڑوں کی سزا رکھی گئی ہے جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ زنا بھی رزق حرام ہی کی ایک شکل ہے اور اس ناول کا موضوع ایسا تھا کہ اس کے ذکر کے بغیر چارہ نہیں تھا لیکن میں نے اس ناول میں کوئی ایسی منظر کشی نہیں کی جس میں لذت کا پہلو نکلتا ہو اور مجھ پر یہ الزام لگایا جا سکتا کہ میں نے منٹو یا عصمت کی طرح فحش نگاری کی ہے۔

سوال: کیا آپ کے خیال نے منٹواور عصمت نے فحش نگاری کی ہے؟
بانو قدسیہ: نہیں میرا یہ مطلب نہیں ہے۔ اس زمانے میں ادب میں جنس کا موضوع نیا نیا متعارف ہوا تھا اور بعد میں تو اس موضوع پر لکھنے کا رجحان چل پڑا تھا۔ ان حالات میں منٹو اور عصمت نے بند دروازوں کو کھولنے کی کوشش کی اور اس عرصے میں جو افسانے لکھے گئے ان میں جنس کے بارے میں تفصیلات زیادہ بیان کی جاتی تھیں۔ ممتاز مفتی نے بھی اس قسم کی کہانیاں لکھیں۔ جب تحریک نئی ہو تو لکھنے والے بھی جوشیلے ہوتے ہیں لیکن اب یہ صورت حال نہیں رہی۔ آج تو ایک چھوٹے سے لڑکے کی بھی جنس سے متعلق معلومات اتنی وسیع ہوتی ہیں کہ اسے اس قسم کے افسانوں میں قطعی دلچسپی محسوس نہیں ہوتی۔ اس لیے آپ دیکھیں گے کہ ہماری نسل منٹو اور عصمت کے افسانوں کو نہیں پڑھے گی۔

سوال: آپ کے لکھنے کا طریقہ کار کیا ہے؟
بانو قدسیہ: میں ایک گھریلو عورت ہوں، اس لیے میرا بیشتر وقت دوسروں پر صرف ہوتا ہے۔ لکھنے کے سمے مہمان آ جائیں تو میں ان سے کیسے کہوں کہ میں اپنے وقت کا ایک عظیم ناول لکھ رہی ہوں۔ اس لیے آپ تشریف لے جائیں۔ میرا گھر، میرے شوہر، بچے اور رشتے دار یہ سب میری ذمہ داری ہیں۔
عموماََ صبح دس بجے سے دوپہر بارہ بجے تک لکنے کا کام کرتی ہوں پھر باورچی خانے میں چلی جاتی ہوں کم عمری میں میرے لکھنے کا وقت سہ پہر تین بجے سے شام چھ بجے تک تھا لیکن اب یہ ہمارے آرام کا وقت ہے۔

سوال: آپ ناول لکھنے کی منصوبہ بندی کس طرح کرتی ہیں؟
بانو قدسیہ: ہر قابل عزت خیال پر میں توجہ دیتی ہوں اور اسے دو مرتبہ لکھتی ہوں۔ پہلی بار ابتدائی ڈرافٹ کی صورت میں جسے آپ چاہیں تو نوٹس کہہ لیں۔ اس میں اگر کہیں کوئی کمی رہ جائے تو اگلی بار لکھتے وقت دور کر دیتی ہوں۔ کہانی کو ختمی شکل دینا، کرداروں کو اجاگر کرنا اس قسم کی ساری محنت دوسرے مرحلے ہی میںممکن ہے۔

سوال: کہانی یا کرداروں کے بارے میں اشفاق احمد سے بھی صلاح و مشورہ کرتی ہیں؟
بانو قدسیہ: ان کے پاس اتنا وقت کہاں ہے؟ ویسے موقع ملے تو مشورہ بھی کر لیتی ہوں۔

سوال: اشفاق احمد سے شادی کا فیصلہ کرتے وقت آپ کو یہ خوف محسوس نہیں ہوا کہ آپ کی ادبی حیثیت ان کے سامنے دب جائے گی؟
بانو قدسیہ: ان سے شادی کر کے میں فائدے میں رہی۔ خیر فائدہ تو انہیں بھی ہوا لیکن سچی بات یہ ہے کہ اگر مجھے اشفاق احمد صاحب کی صحبت نہ ملتی توشائد میں بھی غیر ادبی رسائل میں لکھنے والی عورتوں کی سطح کے ناول اور افسانے لکھتی رہتی۔ انھوں نے ہی مجھے اس بات کا پارکھ بنایا کہ اشیاء کی حقیقت سطح میں نہیں گہرائی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس لیے لکھنے والوں کو گہرائی میں غوطہ زن ہونا چاہیے۔ وہ میرے پیرو مرشد ہیں وہ مجھے کسی تحریر پر شاباش دیتے ہیں تو مجھے ایک اچھے شاگرد کی طرح خوشی ہوتی ہے اور جو وہ کسی تحریر کو نا پسند کریں تو میرے دل سے بھی وہ تحریر اتر جاتی ہے۔

سوال:کبھی آپ نے غیر جانب داری سے غور کیا کہ آپ دونوں میں بڑا ادیب کون ہے؟
بانو قدسیہ: جی ہاں! اشفاق احمد۔

سوال:اور ان کا کیا خیال ہے؟
بانو قدسیہ (ہنستے ہوئے): وہ بھی اشفاق احمد ہی کو بڑا ادیب تصور کرتے ہوں گے۔چوں کہ وہ میرے شوہر ہیں اس لیے میرے منہ سے ان کی تعریف اچھی نہیں لگتی۔ورنہ سچ پوچھیئے تو اشفاق احمد ایک ایسا ادیب ہے جس کی برصغیر میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔وہ ایک چھوٹے سے پودے سے برگد کا پیڑ بنا ہے۔ان کے افسانوں ،ناولوں اور ڈراموں میں جتنا تنوع اور گہرائی ہے وہ ان کے ایک عظیم رائٹر ہونے کی دلیل ہے۔

سوال: انھوں نے کافی عرصہ سے افسانہ لکھنا ترک کر دیا ہے آپ نے ان کی توجہ اس طرف نہیں دلائی؟
بانو قدسیہ: ان کا ذاتی خیال ہے کہ یہ دور افسانوں کا نہیں ہے افسانہ پڑھنے والے ایک شہر میں مشکل سے ایک ہزار ہوں گے جبکہ ٹیلی وژن دیکھنے والوں کی تعداد دو کروڑ ہے اور ٹیلی وژن کے ذریعے لکھنے والے کا پیغام زیادہ دور تک پہنچتا ہے۔ دوسرے ان کی رائے یہ ہے کہ بہت جلد ہمارا سارا ادب سلولائیڈ پر منتقل ہو جائے گا۔

سوال:آپ نقادوں کو کتنی اہمیت دیتی ہیں؟
بانو قدسیہ: بلا شبہ نقاد کی اہمیت مسلمہ ہے بشرطے کہ وہ کتاب کو ذاتی اور گروہی اختلافات سے بلند تر ہو کر قاری کے سامنے پیش کرے۔ نقاد کا فرض ہے کہ وہ مصنف کو فراموش کر کے کتاب کا ادبی اور فنی مرتبہ اور مقام متعین کرے کیوں کہ اسی صورت میں وہ انصاف کر سکتا ہے۔ اگر وہ کسی فن پارے کے بارے میں لکھتے وقت مصنف کو بھی یاد رکھے گا تو اسے یہ بھی یاد آئے گا کہ فلاں پارٹی میں مصنف نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا تھا۔ افسوس کہ ہمارے نقادوں نے کتابوں پر کم اور شخصیت پر زیادہ لکھا ہے۔ نتیجتاََآپ نے محسوس کیا ہو گا کہ لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ فلاں مصنف کی دو بیویاں ہیں اور اس کی مرغوب غذا بھنڈی گوشت ہے لیکن اس مصنف کی کتابوں کے بارے میں ان کی معلومات صفر ہوتی ہیں۔

سوال: بعض ادیبائوں کو گلہ ہے کہ نقاد حضرات انہیں نظر انداز کرتے ہیں۔ کیا آپ کو بھی اس قسم کا کوئی شکوہ ہے؟
بانو قدسیہ: بیشتر خواتین لکھنے والی عموماََ گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں اور ان کا باہر نکلنا اور لوگوں سے ملنا ملانا کم ہوتا ہے۔ یہ عورتیں نقادوں کو دوست بنائیں پھر انشااللہ ان کے فن کو نظر انداز نہیں کیا جائے گامیں لاہور شہر میں ہوں میرے شوہر کی سب سے واقفیت ہے دو چار نقاد ان کے دوست ہیں تو ظاہر ہے وہ میری کتاب کو کس طرح نظر انداز کر سکتے ہیں۔ اصل میں یہ مسئلہ عورت اور مرد کا نہیں پبلک ریلیشنگ ہے۔

سوال:خواتین لکھنے والیوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
بانو قدسیہ: عارتوں میں دو قسم کی لکھنے والیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ ایک تو وہ جو زندگی سے وابستہ ہیں ۔دوسری وہ ہیں جوصرف رومانس میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ پہلی قسم میں خواہ قرةالعین حیدر ہوں یا جمیلہ ہاشمی۔ ان کے افسانوں میں زندگی کے ٹھوس حقائق ملتے ہیں جب کہ دوسری قسم کی افسانہ نگار خواتین ڈائجسٹ اور پاکیزہ ڈائجسٹ میں لکھتی ہیں اور ان کا زندگی کی حقیقتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح مرد لکھنے والے بھی دو حصوں میں بٹ چکے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو صحافت سے منسلک ہیں اور کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنا تعلق صرف تخلیقی عمل سے قائم رکھا ہے۔ اول الذکر مرد ادیب اخبار کی سرخیاں پڑھ کر افسانے لکھتے ہیں جیسے ایک زمانے میں بعض ادیب فلمی کہانی سن کر ناول لکھ مارتے تھے۔دوسرے قسم کے ادیبوں میں احمد ندیم قاسمی، اے حمید اور اشفاق احمد جیسے لوگ شامل ہیں، جن کی تحریروں پر صحافتی انداز تحریر کا گمان نہیں گزرتا۔

سوال: پچھلے دس بارہ برسوں میں ادیب کا دائرہ اثر بے حد محدود ہو گیا ہے، آپ کے خیال میں اس کے کیا اسباب ہیں؟
بانو قدسیہ: ٹیلی وژن، وی سی آر اور فاسٹ فوڈ، لوگ پڑھنے کے بجائے بازاروں میں جا کر کوک پیتے ہیں، آئسکریم کھاتے ہیں، دوستوں سے ملتے ہیں۔ ڈسکو میوزک سنتے ہیں اور جو وقت بچتا ہے اس میں عورتیں ڈائجسٹ اور مرد جاسوسی ناول پڑھتے ہیں۔ ہمارے درمیان سے مطالعہ کرنے والی سنجیدہ نسل غائب ہوتی جا رہی ہے۔تو جب خریدار ہی نہیں ہوں گے تو بازار کیسے چلے گا۔

سوال: آپ نے ابتدا میں جو رومانی افسانے لکھے تھے۔۔۔
بانو قدسیہ (بات کاٹ کر): میں نے رومانی افسانے لکھے ہی کہاں ہیں؟ ابتدائی دو چار افسانے ایسے ہوںگے جن پر اب مجھے افسوس آتا ہے۔کبھی کبھی اشفاق صاحب سے کہتی ہوں آپ شگفتہ شگفتہ سی محبت کے افسانے اتنے ڈھنگ سے کیسے لکھ لیتے ہیں، مجھ سے تو نہیں لکھے جاتے۔میرے افسانوں میں رومان سے زیادہ اس کا تجزیہ ہوتا ہے۔

سوال: یہ تجزیہ آپ کے ٹی وی ڈراموں میں بھی کثرت سے ہوتا ہے، اسی لیے ناظرین اونگھنے لگتے ہیںپتا نہیں اس میں قصور کس کا ہے؟
بانو قدسیہ: میں نے کہا نا کہ میں پبلک کو اپنے تخلیقی عمل میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتی۔بالفرض محال میں یہ سوچنے بیٹھ جائوں کہ میں جو ڈرامہ دیکھ رہی ہوں اسے میری سولہ سال کی بھانجی اور ان پڑھ بھاوج بھی دیکھیں گی اور اس ڈرامے کو ایسا تو ہونا ہی چاہیے کہ ماموں جان شاباشی دیں۔پھر میں لکھ چکی!

سوال:پھر یہ ڈرامے آپ کن لوگوں کے لیے لکھتی ہیں؟
بانو قدسیہ: میں تو صرف لکھتی ہوں۔ میرے پروڈیوسر اکثر مسودہ اٹھائے آجاتے ہیں کہ ڈرامے کے فلاں منظر یا مکالمے یا کہانی کے کسی حصے میں ترمیم کر دیں۔ میں ان سے یہ کہتی ہوں کہ ”بہتر ہو گا کہ آپ میرا مسودہ مجھے واپس کر دیں ۔‘‘ یہ بات وہ کیوں نہیں سمجھتے کہ میں شوقیہ نہیں اندرونی ضرورت اور دبائوکے تحت لکھتی ہوں۔ مجبور ہو کر لکھتی ہوں۔ دوسروں کی پسند اور نا پسند پر جب بھی میں نے غور کیا ہے ایسے لگا ہے جیسے میں کوئی اچھوت ہوں۔ لہٰذا میں نے اس بارے میں فکر مند ہونا عرصہ ہوا چھوڑ دیا ہے۔میں صرف اپنی مرضی سے لکھتی ہوں، اس لیے عام لکنے والوں سے مختلف ہوں۔ عام ڈراموں کے برعکس میرے ڈراموں کا کوئی انجام نہیں ہوتا۔ میرے کردار سنگ میل پر کھڑے رہ جاتے ہیں کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ زندگی مسلسل اور لا متناہی ہے۔ باپ کی بعد بیٹا حیات کے تسلسل کو قائم رکھتا ہے اور زلزلے میں تباہ ہو جانے والے شہر پھر سے آباد ہو جاتے ہیں۔

”راجہ گدھ‘‘، مطبوعہ ادبِ لطیف (خاص نمبر 1982ء)


کتاب: ”یہ صورت گر کچھ خوابوں کے‘‘ از ڈاکٹر طاہر مسعود، اشاعت چہارم، 2012ء، دوست پبلیکیشنز، اسلام آباد

اپنا تبصرہ بھیجیں