کلو سے راہ رواں تک بانو قدسیہ – کشور ناہید

یہ بات ہے 1963ء یا 1964ء کی… بانو آپا اور اشفاق احمد سمن آباد رہتے تھے، اس زمانے میں اشفاق صاحب کو آپرا، مال روڈ کے اوپر کے حصے میں داستان گو، رسالہ نکالتے تھے، اشفاق صاحب اٹلی سے آئے تھے…وہاں سے ایسی پلیٹیں لیکر آئے تھے کہ جن پر کتابت لگا کر خود ہی پرنٹ کرلیا کرتے تھے…کتابی سائز کا یہ منفرد رسالہ، اپنی نوعیت کا بالکل مختلف تھا…اس کالے آئوٹ بانو آپا کے بھائی کرتے تھے اور مواد کو بہترین بنانے کا کام بانو کے سپرد تھا…بانو اور اشفاق کی شادی میں ممتاز مفتی کے علاوہ ایک دو اور لوگ تھے اور بقول بانو، وہ سادہ شلوار قمیض میں تھیں …1964ء میں ٹی وی کیا آیا…دونوں میاں بیوی کے قلم نے لکھنا سیکھ لیا…اشفاق صاحب تو ریڈیو پر تلقین شاہ پہلے ہی کرتے تھے…بانو نے ’’کلو‘‘ جیسی کہانیاں لکھ کر نام بنالیا تھا…اب ٹی وی پر آرٹسٹوں کے مطابق ڈرامے لکھنے بانو نے شروع کئے، مثلاً خورشید شاہ پر کونسا کردار زیب دیگا، قوی خان کیا کام بہتر کرسکتے ہیں…خالدہ ریاست کون کون سے کردار بہتر کرسکتی ہے اور پھر عظمی گیلانی کے اوپر تو کئی کردار تخلیق کئے…لوگ پتہ نہیں کیا کیا کہتے ہیں مگر سچ یہ ہے کہ تخلیق کے سلسلے میں دونوں میاں بیوی کی اپنی اپنی تنہائی تھی…میرا اور یوسف کامران کا بھی یہی حال تھا…میری کتاب آنے پر یوسف کو معلوم ہوتا اور اکثر اشفاق صاحب کو ڈرامہ دیکھتے ہوئے، بانو کی کاریگری کا علم ہوتا…مسکراکر دیکھ کر کہتے ’’شاوا بھئی شاوا۔‘‘
داستان سرائے میں منتقل ہونے کے بعد، ایک کمرہ اشفاق صاحب نے اپنے گھر میں ریکارڈنگ کیلئے تمام ضروری سماعتی آلات لگا کر بنایا تھا…یہاں پر وہ اپنے کرداروں کے ساتھ خود ہی تلقین شاہ ریکارڈ کرکے ریڈیو پاکستان کو دیتے رہے…کئی سال وائس آف امریکہ والے بھی تلقین شاہ پیش کرتے رہے…کئی دوپہریں ایسی تھیں کہ میرے ساتھ جیلانی بانو، عینی آپا، سحاب قزلباش، نارنگ صاحب اور منورما کے علاوہ شمیم حنفی اور صبا آئے ہوں…تو اشفاق صاحب بھی ہم سے باتیں کرتے ہوئے بیٹھ جاتے تھے…اس وقت تک خان صاحب کو باتوں کا اتنا جنون نہیں ہوا تھا حالانکہ بابانور محمد سے ممتاز مفتی نے انہیں متعارف کروا دیا تھا… بانو تو بس ان کی چیلی بنی، ساتھ ساتھ جو حکم سرکار پر آمادہ رہتی تھیں۔
ایک شام مجھے پتہ چلا، بانو بیمار ہیں…برآمدے میں پلنگ بچھے تھے…شنید یہ تھی کہ کسی طرح کا بلڈ کینسر ہے…ہم نے کہا ’’فوراً‘‘ لندن لے جائو ’’خان نے منہ بنا کر کہا‘‘ اتنے پیسے کہاں…مجھے بھی غصہ آیا میں نے کہا میں صبح کو جھولی پھیلا کر بانو کیلئے مانگنے نکل جائوں گی، آپ انسان بنیں…اس کے علاج کا بندوبست کریں…چند ہفتوں بعد بی سی سی آئی نے بلاوا بھیجا…بانو واپس آئی تو اچھی لگ رہی تھی…ایک شام خان صاحب نے ہم سب کو بلا بھیجا کہ بہت عالم شخص سے تمہاری ملاقات کرانی ہے…ہم حیران، پریشان مرتے کیا نہ کرتے پہنچ گئے…ایک صاحب دانش بگھا ررہے تھے…بیچ بیچ اللہ رسول کا نام بھی لے لیتے اور قدرت کے کارنامے بیان کرتے رہے… پوچھا ان افلاطون کا نام کیا ہے…میری اس طرح کی باتیں بانو کو اچھی نہیں لگتی تھیں…اشارہ کرکے کہہ دیتی تھی ’’چپ‘‘ میں بھی منہ دوسری طرف کرلیتی تھی…کھانے پر پہنچ کر پتہ چلا ’’یہ واصف علی واصف‘‘ ہیں…اب خان صاحب کے ڈراموں میں بھی تصوف زدہ ڈائیلاگ آنے لگے…کچھ دنوں بعد، پتہ نہیں کیوں واصف صاحب کا انٹرویو چھپا جس میں انہوں نے کہا کہ اشفاق میرے کہے ہوئے فقرے، ڈراموں میں لگا لیتا ہے…بس دونوں کی کھٹ پٹ ہوگئی ادھر یوسف کا انتقال ہوا واصف صاحب روز شام کو مجھے تسلی دینے آئے بڑی شفقت سے باتیں کرتے، میرے سارے سسرال والوں کو مبہوت کرکے میں خاموش بیٹھی رہتی…آج جب لاہور میں بہاولپور روڈ پر واصف صاحب کا زبردست عرس ہوتا ہوا دیکھتی ہوں تو ان کی باتیں یاد آتی ہیں۔
بانو نے چند ہی کتابوں کی تقریب میں شرکت کی…ایک تقریب منو بھائی نے میری کتاب ’’ملامتوں کے درمیان‘‘ تبصرے کیلئے اپنے گھر منعقد کی…بانو نے پوچھا ’’تو نے یہ نام کیوں رکھا۔‘‘ میری جگہ خان صاحب جھٹ بولے ارے یہ بھی تو اپنی طرح کی صوفی ہے…جو جی میں آئے پھٹ سے کہہ دیتی ہے۔‘‘ بس یہیں خان صاحب نے میرے بارے میں گرہ باندھ لی…وہ ریٹائر ہوئے تو مجھے اردو سائنس بورڈ کا ڈائریکٹر لگا دیا گیا…خان صاحب نے چونکہ بانو کے بعد اس ادارے سے اتنی محنت کی تھی کہ بلڈنگ بھی اپنے طریقے کی بنوائی تھی…یہ حکومت کی زیادتی تھی اور مجھے ان کی جگہ جانے پر گلٹ محسوس ہو رہا تھا…میں کہتی آپ کی تصویر اس عمارت پر لگانی ہے وہ چڑ چڑا کر کہنے لگے’’رین دے‘‘…اب وہ خود پیربن گئے…یہ کام ویسے انہوں نے ضیاءالحق کے زمانے سے شروع کردیا تھا…ضیاء الحق ان کو قریب بھی رکھتے تھے…بانو تو تھی ہی ان کے حکم کی غلام…میں چڑ کر کہتی ’’کبھی کوئی فیصلے خود بھی کرلیا کرو…وہ کہتی ’’سوھنیا یہ نہیں ہوسکتا۔‘‘
خان صاحب کا کوئی آپریشن ہوا…بس ایک نئی قیامت آگئی…بانو نے نہ گھر دیکھا نہ بچوں کو…بس خان صاحب کے پائتی بیٹھی دعائیں پڑھتی رہی…ان کے مرنے کے بعد بھی دعائیں پڑھتی، گرمیوں میں بھی سوئیٹر پہنے ہوتی…کئی سال سے انہیں سردی لگتی رہتی… اب کالا سیاہ کالا والے بابا یحیٰی آتے تو ان کی باتیں سنتی، اپنی زندگی کے سفر پر راہ رواں لکھا…اس میں اس کے پاس جتنی یاد داشتیں تھیں آگے پیچھے کرکے سب لکھ دیں…ایسی ستی ساوتری بی بی معلوم نہیں، خان صاحب کے رعب میں تھی کہ وہ جس نے گانا، ایکٹنگ، ناچنا، سب کچھ سیکھا تھا…اب اس کی ڈکشنری سے جب خان صاحب چلا گیا تو پھر بھی اللہ اور خان صاحب جپتی جپتی خاموش ہوگئی۔

(روزنامہ جنگ)

اپنا تبصرہ بھیجیں