’’رہے گی اردو ادب سوگوار برسوں تک‘‘ بانو قدسیہ ادب کا درخشندہ ستارہ – خالد یزدانی

اُردو ادب میں بانو قدسیہ کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، وہ کچھ عرصہ سے علیل تھیں، گزشتہ دنوں اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں ،اس فانی دنیا سے جانے والے نہیں آتے ان کی یادیں ہی رہ جاتی ہیں،اردو ادب کی کی رحلت پر سوگوار ہے اور ان کی کمی محسوس کی جاتی رہے گی ابھی عبداللہ حسین ،انتظار حسین جیسے قلمکاروںکے جانے سے ادبی دنیاسوگوار تھی کی بانو ّآپا بھی داغ مفارقت دے گئیں ، بانو قدسیہ کی وفات پر ان کے صاحبزادے اثیر نے صحیح کہا تھا کہ والدہ کے انتقال سے داستان سرائے میں کوئی داستان گو باقی نہیں بچا ،دراصل اشفاق احمد کی وفات کے بعد داستان سرائے کی وہ رونقیں نہیں رہی تھیں مگر بانو آپا نے بڑے حوصلے سے حالات کا مقابلہ کیا اشفاق احمد مرحوم کی پہلی برسی پر حیدری بابا اور دیگر احباب بانو آپا کے ہمراہ قبرستان گئے، اسی طرح اشفاق احمد کی برسی پر منعقدہ تعزیتی ریفرنسز میں بھی وہ باوجود بیماری آ جاتی تھیں، مگر سچی بات یہ ہے کہ اشفاق احمد کی وفات کے بعد بانو قدسیہ نے خو کو زیادہ تر گھر تک محدود کرلیا تھا مگر لکھنے کا سفر پھر بھی جاری رکھا ،مگر کم کم لکھاگزشتہ سال جب الحمرا میں عالمی ادبی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا اور انتظار حسین ، کمال احمد رضوی اور عبداللہ حسین جیسی شخصیات کے علاوہ باوجود شدید علالت کے بانو قدسیہ کو وہیل چیئر پر معروف کمپئیر نور الحسن لے کر آئے تھے۔ ’’ داستان سرائے‘‘ کے مکینوں سے ان کی عقیدت میں کبھی کمی نہیں دیکھی، اس دن بھی وہ بانو قدسیہ کو تقریب کے اختتام پر خود وہیل چیئر کے ہمراہ کار تک آئے اور بانو آپا کو سہارا دے کر کار میں بیٹھایا اسی طرح ’’ داستان سرائے‘‘ میں ادبی نشست میں بھی وہ پیش پیش رہتے۔
آج سے چند دن قبل بانو قدسیہ جب زیادہ بیمار ہوئیں تو ان کو ایک مقامی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ، جہاں وہ ہفتہ 4فروری کو خالق حقیقی سے جا ملیں، ان کی وفات کی اطلاع ملتے ہی ادبی ، ثقافتی اوبی سیاسی شخصیات داستان سرائے پہنچنا شروع ہو گئی تھیں ،وفات کے اگلے روز جنازہ انکی رہائش گاہ ماڈل ٹائون سے اٹھایا گیا اورمقامی مسجد میں نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ، مرحومہ کے پسماندگان میں تین بیٹے چھوڑے ہیں ۔ بانو قدسیہ 28 نومبر1928ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں ، تقسیم کے بعد خاندان کے ہمراہ لاہور آ گئیں، انہوں نے 1950ء میں گورنمنٹ کالج سے ایم اے اردو کیا معروف ڈرامہ نویس و افسانہ نگار اشفاق احمد انکے کلاس فیلو تھے، دونوں کی مشترکہ دلچسپی ادب پڑھنا اور لکھنا تھا، دسمبر1956ء میں بانو قدسیہ کی شادی اشفاق احمد سے ہو گئی، کچھ عرصہ بعد دونوں نے ایک ادبی رسالے داستان گو کا اجراء کیا ، پھر دونوں میاں بیوی ریڈیو کیلئے ڈرامے بھی لکھتے تھے ۔ ٹیلی ویژن آنے کے بعد بانو قدسیہ نے ڈرامہ لکھنے کا بھی آغاز کر دیا ۔گیا ٹی وی پر بانو قدسیہ کی پہلی ڈرامہ سیریل سندھراں تھی اور اسکے بعد دھوپ جلی خانہ بدوش ، کلو پیا نام کا دیا، جیسے ڈرامے لکھے، جبکہ انہوں نے نثر کی ہر صنف میں زور آزمائی کی، 1981ء میں شائع ہونے والا ناول، راجہ گدھ، بانو قدسیہ کی حقیقی شناخت بنا اور اسکے اب تک 14 ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں ، بانو قدسیہ نے ستائیس کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے، راجہ گدھ کے علاوہ انکی دیگر تصانیف میں امر بیل، باز گشت، ناقابل ذکر ، دست بستہ، سامان وجود، آتش زیر پا، کچھ اور نہیں ایک دن ، شہر لازوال، پروا موم کی گلیاں، چہار چمن، دوسرا دروازہ، ہجرتوں کے درمیان، تمثیل، موم کی کلیاں، حاصل گھاٹ، توجہ کی طالب، اور انکی خود نوشت راہ رواں، قابل ذکر ہیں، انکی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے 2003ء میں ستارۂ امتیاز اور 2010ء میں ہلال امتیاز سیدیا گیا ، جبکہ ٹی وی ڈراموں پر بھی انھیں کئی ایوارڈ ملے تھے بانو قدسیہ کی وفات پر معروف شاعرہ نیلما درانی نے کہا بانو قدسیہ ایک بڑی رائٹر ہی نہیں ایک بڑی انسان بھی تھیں، میری پہلی کتاب ’’ جب تک آنکھیں زندہ ہیں‘‘ کی تقریب رونمائی کی صدارت اشفاق احمد صاحب نے کی تھی بانو آپا نے مضمون پڑھا تھا۔ میری دوسری کتاب جب نہر کنارے شام ڈھلی کی تقریب کی صدارت بانو قدسیہ نے کی یوں جب میں نے ادب کی دنیا میں قدم رکھا تو ان ’’ مشفق ہستوں نے میری بھر پور طرح سے حوصلہ افزائی کی۔ ان کی شخصیت ایک گھنے درخت جیسی تھی جس کے سایہ میں راحت بھی ملتی ہے اور سکون بھی، اللہ ان کو کروٹ کروٹ جنت عطا کریں (آمین)
شاعرہ و ادیبہ سیما غزل نے بانو قدسیہ کی وفات پر کہا کہ ان کی وفات سے ایک عہد اوجھل ہو گیا، محبتوں کی تقسیم اشفاق صاحب اور بانو آپا کے دور سے شروع ہوئی تھی وہ ایک پوری نسل کا ہاتھ تھام کر انہیں تہذیب و تمدن کی ایسی بستی میں لے جاتے تھے جہاں انسانیت کی پرورش ہوتی تھی جہاں ذاتی انا، ذاتی مفاد اور بد تہذیبی سے کنارا کر لیا جاتا تھا آج گویا وہ نسل بالکل یتیم ہو گئی جو خلاء اشفاق احمد کی موت سے پیدا ہوا تھا اسے کافی حد تک بانو آپا نے دور کر دیا تھا اب پھر جو خلاء بنا ہے خدا کرے پھر کوئی قدآور شخصیت اسے پُر کر سکے ورنہ بانو آپا کی جدائی کا زخم ناسور بن جائے گا۔
معروف ادیب و دانشور ظفر سپل نے کہا اردو ادب جہاں ناول نویسی کی روایت ابھی تک دگر گوں ہے ،بانو قدسیہ اور اس کے ناول راجہ گدھ کو نظر انداز کرنا نا ممکن ہے اس کے فکری نظرئے پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے مگراس طرح بھی یہ ناول اپنی فکری توانائی کا عندیہ دیتا ہے اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ بانو قدسیہ اس کا شوہر اشفاق احمد ان کے دوست قدرت اللہ شہاب ،ممتاز مفتی ،ابن انشا ایک ادبی خاندان کے طور پر اردو ادب پر اثر انداز ہوئے اور یہ ایک اہم بات ہے ۔ڈاکٹر حیدری بابا چیئر مین سنگت سخی لعل شہباز قلندر نے بانو آپا کی وفات پر کہا آج ماں جی (بانو قدسیہ) اپنے اللہ کے پاس چلی گئیں آج راجہ گدھ بھی رو رہا ہے لا وارث ہو گیا ہے ان کے جانے سے اردو ادب میں بہت بڑا خلاء پیدا ہوا ہے اردو کے معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی نے بانو قدسیہ کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ بانو قدسیہ کا ہم سے بچھڑ جانا دکھ کی بات ہے وہ خلا ہے جو پر نہیں ہو سکتا۔ صغریٰ صدف ڈائریکٹر پلاک نے کہا کہ ایسی ادیبہ دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتی ۔ مستنصر حسین تارڑ نے کہا بانو آپا کی وفات سے آسمان علم و ادب کا ایک روشن ستارہ ڈوب گیا جو کہ ادبی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے۔ عطاء الحق قاسمی نے بانو قدسیہ کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بانو قدسیہ ادب کا ایسا روشن اور درخشندہ ستارہ تھیں جنہوں نے پورے خلوص کے ساتھ ادب کی آبیاری کی۔ افتخار مجاز نے کہا کہ ان کی وفات سے اردو ادب کو نا قابل تلافی نقصان ہوا ان کی تحریریں اردو ادب کا سرمایہ ہیں۔
امجداسلام امجد نے بانو قدسیہ کی وفات پر کہا کہ ادب ایک با صلاحیت ادیبہ سے محروم ہو گیا ایسی شخصیات ہی ادب کو زندہ رکھے ہوئے تھیں۔
شاعر ناصر رضوی کا بانو آپا کی وفات پر کہنا تھا کہ بانو قدسیہ کی تحریروں کا آہنگ دوسروں سے جدا تھا اسی لئے ان کی تحریروں کو شوق سے پڑھا جاتا تھا ، ادیب طارق بلوچ صحرائی نے بانو قدسیہ کی وفات پر کہا میرے لئے ہی نہیں اردو ادب کے لئے کسی سانحہ سے کم نہیں میری حال ہی میں افسانوں کے مجموعے کی کتاب میں بھی ان کی رائے شامل ہے جو میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔
بلقیس ریاض نے بانو آپا کی وفات پر کہا اشفاق احمد اور بانو قدسیہ اکثر ہمارے گھر آتے تھے دونوں بڑے نفیس انسان تھے وہ اکثر مجھے کہا کرتی تھیں تم افسانے زیادہ لکھا کرو اسی طرح میرے سفر ناموں کو بھی پسند کرتی تھیں میں نے ان جیسی سادہ مزاج خاتون نہیں دیکھی ان کی وفات اردو ادب کا بڑا نقصان ہے ۔شاعر وادیب جاوید اختر جاوید جکر (جہلم ) نے بانو قدسیہ کی وفات پر کہا کہ وہ ادب کا اثاثہ تھیں ناول نگاری جو فی زمانہ ختم ہوتی جاریے ہے اسے زندہ رکھا ان کے بعد ایسا قد آور کوئی اور نام نظر نہیں آتا ۔شاعرہ ارومہ بٹ رومی نے کہا کہ بانو قدسیہ اردو ادب کا ایسا اثاثہ تھیں جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے ،جب وہ باوجود علالت لاہور میں ہونے والی علمی ادبی کانفرنس میں تشریف لائیں تو میری ان سے آخری بار ملاقات ہوئی تھی ایسی شفیق ہستیاں اس دنیا سے اٹھتی جا رہی ہیں ۔ابصار عبدالعلی نے کہا سال کے آغاز ہی میں اس سال کا سب سے بڑا غم اردو ادب کے قارئین کو بانو آپا کی وفات کی صورت سہنا پڑا یہ چند برسوں کا نہیں صدیوں آگے تک کا صدمہ ہے وہ اردو ادب کے صف اول کے ان چند ناول نگاروں میں ممتاز اور بہت زیادہ پڑھی جا نے والی مصنفہ تھیں جنہیں اردو ادب کی آبرو کہا جاتا ہے ۔چیئرمین قلم فا ونڈیشن کے عبدالستار عاصم ،ادیب و سیاح مقصود چغتائی ،عاطفہ شمس ناشر وادیب ملک مقبول اور بابائے اردو بازار خالد چودھری نے بھی بانو قدسیہ کی وفات کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات سے افسانہ نگاری کا ایک باب ختم ہو گیا ،
بلاشبہ بانو آپا کی کمی اردو ادب میں ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔ان کی وفات سے اگلے روز ان کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی میں علمی ادبی، ثقافتی اور سیاسی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی اور آج بھی داستان سرائے ماڈل ٹائون میں بانو قدسیہ کی وفات پر ان کے صاحبزادوں سے تعزیت کرنے والے آ رہے ہیں ، بانو قدسیہ کے ساتھ اشفاق احمد کی یادیں تازہ کرتے۔ آج وہ ہم میں نہیں لیکن ان کی تحریریں ان کی تادیر یاد دلاتی رہیں گی۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں