پتی بھگت… ممتازمفتی

نام کتاب: اور اوکھے لوگ
مصنف: ممتاز مفتی

آپ بانو کو جانتے ہیں چونکہ وہ مصنفہ ہے – قدسیہ کو نہیں جانتے جو فرد ہے- میں قدسیہ کو جانتا ہوں بانو کو نہیں جانتا- بانوقدسیہ ایک نہیں دوافراد ہیں جس طرح کسی کسی بادام میں دومغز موجود ہوتے ہیں- اسی طرح بانوقدسیہ کی شخصیت کے دو پہلو ہیں الگ الگ – ایک بانودوسری قدسیہ-
میں بانوقدسیہ سے واقف نہیں لہذا اس کی شخصیت قلم بند کرنے سے قاصر ہوں- صرف یہی نہیں کہ واقف نہیں سچی بات ہے میں اس سے واقف ہونا ہی نہیں چاہتا میں ہی نہیں اس کے گھرمیں بھی کوئی اس سے واقف نہیں نہ اشفاق ، نہ نوکی ، نہ سیری ، نہ کیسی کوئی بھی بانوسے واقف نہیں ہونا چاہتا-
گھرمیں تین مظلوم رہتے ہیں – بانو، قدسی اوراشفاق احمد – بانو کو قدسی جینے نہیں دیتی ، قدسی کو اشفاق جینے نہیں دیتا، اشفاق احمد کو خود اشفاق احمد جینے نہیں دیتا- اشفاق احمد پٹھان ہے قدسیہ جاٹ ہے، بانوبے ذات ہے- اشفاق براہمن ہے، قدسیہ شودہرہے، بانوہاری ہے شہد کی مکھی ہے- قدسیہ پروانہ ہے، اشفاق بھڑہے- بانوذہن ہے قدسی دل ہے، اشفاق ذہن ہے-
بانوکے فکرمنزل ہے، قدسی کے لیے پتی بھگتی ہے، اشفاق کے لیے ذات منزل ہے. قدسی کی شخصیت کا جزواعظم پتی بھگتی ہے- اگرآپ پتی بھگتی کا مفہوم سمجھنا چاہتے ہیں تو میرا مخلصانہ مشورہ ہے چند روز اشفاق احمد کے گھرمیں قیام کیجیے-
اگراشفاق احمد قدسی کی موجودگی میں برسبیل تذکرہ آپ سے کہے کہ اس گھر میں تو سامان کے انبارلگے ہوئے ہیں میرا تو دم رُکنے لگا ہے تو اگلے دن گھر میں چٹائیاں بچھی ہوں گی اور پیڑھیاں دھری ہوں گی- اگرکسی روز لاؤڈ تھنکنگ کرتے ہوئے اشفاق کہے بھئی چینی کھانوں کی کیابات ہے تو چند دنوں میں کھانے کی میز پرچینی کھانے یوں ہوں گے جیسے ہانگ کانگ کے
کسی ریستوران کا میز ہو-

ایک روز کھانا کھاتے ہوئے اشفاق احمد نے کہا کھانے کا مزہ تو ان دنوں آتا تھا جب اماں مٹی کی ہنڈیا میں پکایا کرتی تھیں- آج کل ککرز نے بربادی کر رکھی ہے- اگلے روز قدسی (بانو قدسیہ) کے باورچی خانے میں چار مٹی کی ہانڈیاں چولہوں پر رکھی ہوئی تھیں- اس سے شاید آپ یہ سمجھیں کہ پتی بھگت کا مقصد خاوند کو خوش رکھنا ہوتا ہے- اونہوں- یہ بات نہیں –
میاں کو خوش رکھنے کی کوشش تو ہر بیوی کرتی ہے- آج کل کی بیوی نے میاں کو خوش رکھنے کا ایک نرالا طریقہ ایجاد کر رکھا ہے-
پہلے وہ میاں کی پسند ناپسند کو بدلتی ہے- ایسا جنتر منتر پھونکتی ہے کہ میاں ہر وہ چیز پسند کرنے لگتا ہے جو بیوی کی پسند ہو- بیوی اپنے پسند کر کام کرتی ہے لیکن اس انداز سے کرتی ہے کہ میاں یہ سمجھے کہ اس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اپنی خواہشات کی قربانی دے رہی ہے-
قدسی میاں کی پسند نا پسند بدلنے کی کوشش نہیں کرتی- الٹا اپنی پسند ناپسند کو میاں کی پسند ناپسند کے مطابق ڈھال لیتی ہے-
اس کی سب سے بڑی آرزو یہ ہے کہ میاں کی ہر خواہش کو پورا کرے- چاہے وہ خواہش قدسی کے مفاد کے خلاف ہی کیوں نہ ہو-

پہلی مرتبہ انجانے میں‌ مَیں نے بانو کو باتیں کرتے ہوئے سن لیا تھا. جب قدسی کے بڑے بیٹے نوکی نے کہا امی ایڈیٹر صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں قدسی ڈرائینگ چلی گئی-
پھرڈرائنگ روم میں کوئی باتیں کررہی تھی – افسانوں کی باتیں- کرداروں کی باتیں- مرکزی خیال اندازِ بیان کی خصوصیات کی باتیں- ان باتوں میں فلسفہ ، نفسیات اورجمالیات تھی-
میں حیرت سے سن رہا تھا- اللہ اندر تو قدسی گئی تھی لیکن یہ باتیں کون کررہی ہے- قدسی نے تو کبھی ایسی باتیں نہیں کیں وہ تو خالی جی ہاں، جی ہاں، ہے اگرمگر، چونکہ، چنانچہ کون ہے. پھر مجھے پتہ چلا کہ بانو کیا شے ہے-

(ممتازمفتی کی بانوقدسیہ کے بارے تحریر سے ایک اقتباس)

بانوقدسیہ کے بارے میں ممتازمفتی مزید لکھتے ہیں:
“اشفاق احمد نے ایک خاتون سے عشق – کئی سال وہ اس عشق میں گھلتا رہا – عشق کامیاب ہوا – خاتون بیوی بن کے گھرآئیں تو محبوبہ نہیں عاشق نکلیں -ورنہ اشفاق احمد کے جملہ کس بل نکل جاتے – محبوب طبعیت وہ ازلی طورپرتھا بیوی کی آمد کےبعد بلکل دیوتا بن گیا. کانٹا اشفاق کو چبھے تو ددرد بانو کو ہوتا ہے- ہتھ چکی اشفاق چلاتا ہے آبلے بانو کے ہاتھوں میں پڑتے ہیں – حیرت ہوتی ہے ایک پکی دانشور نے پتی بھگتی میں اپنا سب کچھ تیاگ رکھا ہے-“

اپنا تبصرہ بھیجیں