بانو قدسیہ کے مداح ان کی 89 ویں سالگرہ آج منا رہے ہیں

اُردو کی مقبول و معروف ناول نگار اور افسانہ نگار بانو قدسیہ کے چاہنے والے آج (28 نومبر کو) ان کی 89 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ بانو قدسیہ مشرقی پنجاب کے ضلع فیروزپور میں 28 نومبر، 1928ء کو ایک زمیندارگھرانے میں پیدا ہوئیں ۔انہوں نے کنیئرڈ کالج برائے خواتین لاہور سے ریاضیات اور اقتصادیات میں گریجویشن کیا اور1951ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اُردو کی ڈگری حاصل کی، اُردوادب کے ساتھ شروع سے لگاؤتھا۔ مشہورافسانہ نگار اور ڈرامہ نویس اشفاق احمد سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد ان کی معاونت سے ادبی پرچہ داستان گو جاری کیا۔ بانو قدسیہ نے اُردو اور پنجابی زبانوں میں ریڈیو اور ٹیلی ویڑن کے لیے بہت سے ڈرامے بھی لکھے. اْن کے ایک ڈرامے آدھی بات کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔ بانو قدسیہ کے افسانوی مجموعوں میں ناقابل ذکر، بازگشت، امر بیل، دست بستہ، سامان وجود، توجہ کی طالب، آتش زیرپا اور کچھ اور نہیں کے نام شامل ہیں۔ ان کا ناول راجہ گدھ اُردو زبان کے اہم ناولوں میں شمار ہوتا ہے،جب کہ دیگر تصانیف میں ایک دن، شہر لازوال، پروا،موم کی گلیاں، چہار چمن، دوسرا دروازہ، ہجرتوں کے درمیاں اور ان کی خود نوشت راہ رواں سر فہرست ہیں۔ بانو قدسیہ نے ٹیلی وژن کے لیے بھی کئی یادگار ڈرامہ سیریلز اور ڈرامہ سیریز تحریر کیے، جن کے مجموعے بھی شائع ہوئے ہیں، جب کہ ان کی ادبی خدمات پر حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا ہے۔ بانوآپا 4 فروری2017ء کو 88 سال کی عمر میں شوگر اور دل کے عارضے کے باعث ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم سے بچھڑ گئیں تاہم ادب کے لیے کی گئیں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

3 تبصرے “بانو قدسیہ کے مداح ان کی 89 ویں سالگرہ آج منا رہے ہیں

  1. urdu adab kay hawalay say ache koshesh hay es tarah urdu ko internate ki dunya man mahfooz rakha jaa raha hay . man es shandar kam per dilli mubarakbad mash karta hon

  2. قابل احترام محبوب الہِی مخمور صاحب
    ویب سائٹ کی پسندیدگی اور تبصرہ بھیجنے کا بے حد شکریہ۔ آپ کے الفاظ ہمارے لیے کسی سرمائے سے کم نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں