بانو قدسیہ کی وفات

ہماری ہر دلعزیز معروف مصنفہ بانو قدسیہ طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں۔ معروف ادیبہ اور افسانہ نگار بانو قدسیہ 28 نومبر 1928ء کو بھارت کے مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہوراور بی اے کنیئرڈ کالج سے کیا جب کہ 1949ء میں گریجویشن کا امتحان پاس کیا۔ وہ اس وقت پاکستان ہجرت کرچکی تھیں۔ بانو قدسیہ نے گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے اُردو میں داخلہ لیا اور یہیں اشفاق احمد ان کے کلاس فیلو تھے اور دونوں نے دسمبر 1956ء میں شادی کرلی۔
مصنفہ بانو قدسیہ نے 27 ناول اور کہانیاں تحریر کی ہیں جس میں ’’راجہ گدھ‘‘، ’’امربیل‘‘، ’’بازگشت‘‘، ’’آدھی بات‘‘، ’’دوسرا دروازہ‘‘، ’’تمثیل‘‘،’’ حاصل گھاٹ‘‘ اور ’’توجہ کی طالب‘‘ قابل ذکر ہیں جب کہ ان کے ناول ’’راجہ گدھ‘‘اور ’’آدھی بات‘‘ کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بھی بہت سے ڈرامے لکھے ہیں۔
حکومت پاکستان کی جانب سےان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 2003ء میں ’’ستارہ امتیاز‘‘ اور 2010 میں ’’ہلال امتیاز‘‘ سے نوازا گیا جب کہ اس کے علاوہ انہیں کئی قومی اور بین الااقوامی ایورڈ بھی دیئے گئے ہیں لیکن اب یہ اردو ادب کا چمکتا ستارہ بجھ گیا ہے اور معروف مصنفہ بانو قدسیہ طویل علالت کے بعد آج لاہور میں 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ بانو قدسیہ کی نماز جنازہ ان کی رہائش گاہ، داستان سرائے میں ادا کی گئی اور انہیں مقامی قبرستان میں شوہر کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔
پاکستان کی اعلیٰ شخصیات نے مصنفہ بانو قدسیہ کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ صدیوں تک پر نہ کیا جا سکے گا، علاوہ ازیں مرحومہ کی ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں