با نو قدسیہ جی

بانو قدسیہ جنھیں ہم سب بانو آپا کے نام سے جانتے ہیں آپ 28نومبر 1928ء کو فیرو ز پور ایسٹ مشر قی پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ پیدائش کے وقت آپ کا نام قد سیہ چٹھہ رکھا گیا۔ آپ کاخاندان کچھ عرصہ بعد لاہور منتقل ہوگیا۔ یہا ں پرقدسیہ آپا نے سکول اور اپنے کالج کی تعلیم حاصل کی۔ بانو آپا نے کینیڈ کالج سے میتھس میں اپنی گریجویشن مکمل کی اور پھر 1948ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے اُردو کی کلاس میں داخلہ لیا. یہ گورنمنٹ کالج میں سب سے پہلی اُردو کی کلاس تھی، اس میں بانو قدسیہ نے صوفی غلا م مصطفی تبسم کے پُر زور اصرار اور اپنی والدہ کے کہنے پر دا خلہ لے لیا تھا. ایم اُردو کی یہ کلاسیں 1948ء میں احمد شاہ پطر س بخاری، جناب منظور صاحب اور صوفی تبسم کی کوششو ں سے شروع کی گئیں. اس کلاس میں کل 6 طلباء تھے جن میں 3 لڑکے اور 3 لڑکیاں تھیں. ان طلباء میں جو سب سے زیادہ اس دور میں جانے جاتے تھے اور جنھوں نے شہر ت کے گھوڑے کی رقاب میں پائوں رکھا ہوا تھا وہ اشفاق احمد تھے کیوں کہ اس دور میں ان کی کتا ب “ایک محبت سو افسانے” شائع ہوچکی تھی اور جیسا کہ ہر تخلیق کا ر کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسے جانا جائے، اس کی عزت کی جائے اور وہ خود کو مشہور تصور کرے، بقول اشفاق صاحب کے، ہمارے خیا ل میں ایم اے اُردو کرنے والی قدسیہ جو کہ میتھس کے مضامین پڑھ کر ہمارے ساتھ بیٹھی ہے، ہمیں اس سے کوئی ڈر یا خوف نہیں کیوں کہ ہم تو پہلے سے ہی اُردو ادب میں جانے پہنچانے جاتے ہیں مگر جب ایم اُردو کے پہلے امتحان ہوئے تو ان میں پہلے نمبر پر بانو قدسیہ تھی. تو پھر ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ جس کو ہم ہلکا لے رہے تھے وہ تو ہمارے لیے ایک چیلنج بن گئی ہے. پھر ہم نے پورے دو سال بڑی کوشش کی کہ کسی طرح قدسیہ کو دوسرے نمبر پر لاسکیں مگر ایسا نہ ہوسکا. یہ تو بات اشفاق صاحب کے حوالے سے تھی، آج جب کہ بانو آپا کا انتقال ہوچکا ہے اور بقول با نو آپا کے انھوں نے اپنا سب سے پہلا کوئی ادبی مضمون لکھا تو وہ انگریزی میں تھا، جس کا نام تھا “آور مین” اور پھر اسی سال بانو آپا نے اپنا اُردو کا پہلا افسا نہ تحریر کیا. با نو آپا کہتی ہیں کہ ان کو حُسن اور جمال شروع ہی سے پسند ہے اور وہ اس کا برملا اظہا ر بھی کرتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اشفاق صاحب کی بیوی بننا قبول کیا کیوں کہ کالج دور میں اشفاق صاحب بہت خوبصورت اور حُسن و جمال کے مالک تھے اور جب وہ سائیکل چلاتے ہوئے کالج میں داخل ہوتے تھے تو بہت بھلے لگتے تھے. بانو آپا نے بے شمار افسانے، ٹی وی ڈرامے اور ناول لکھے. با نو آپا جب ہمارے ساتھ بیٹھا کرتی تو اکثر اپنی جوانی کے واقعات ہمارے ساتھ دھرایا کرتیں. آپا کہتی ہیں کہ میں باروچی خانہ میں بیٹھ کر کھانا پکاتی اور روٹیا ں پکاتی تو شہاب صاحب، ممتاز مفتی اور اشفاق احمد میرے پاس باور چی خانے میں آجاتے اور بیٹھ کر کھانا کھانے لگتے. پھر ہم چاروں میں ادبی بحث چھڑ جایا کرتی مگر میں ان سب میں سے کمزور ترین صاحب محفل ہوتی جو ان دیو ہیکل مصنفوں کے آگے طفل مکتب تھی. بانوآپا کی تحریروں میں آپ کو اُردو زبان کا لب و لہجہ اور چٹخارا تو نہیں ملے گا جو کہ قراۃ العین اور عصمت چغتائی کی تحریوں میں پایا جاتا ہے مگر بانو آپا کی سیدھی سادہ اُردو جس کی بنیاد جذبات، فلسفہ زندگی، اور حقائق پر مبنی ہوتی ہے، دل میں اتر تی جاتی ہے اور جس کا سحر آپ کو جکڑ لیتا ہے. نتیجتاً آپ بانو آپا کی تحریریں پڑ ھنے کے بعد بہت دیر تک سوچ کی گھتیا ں سلجاتے رہتے ہیں.
با نو آپا مزاجاً نہایت عاجزی اور فقیر ی طبیعت کی مالک خاتون تھیں. آپ نے تمام عمر با نو آپا بن کر اپنے قریب بسنے والوں اور پیا روں سے نہا یت شفقت اور محبت کا رشتہ استوار رکھا جو کہ آپ کی وفات تک قائم رہا. بانو آپا کے تحریر کر دہ ڈراموں اور کتابوں میں آدھی بات، ایک دن، امر بیل، آسے پاسے، باز گشت، چھوٹا شہر بڑے لوگ، دست بستہ، دوسرا دروازہ، دوسرا قدم، فٹ پاتھ کی گھاس، حوا کے نام، ہجرتوں کے درمیا ن، کچھ اور نہیں، لگن اپنی اپنی، مر دِ ابریشم، موم کی گلیا ں، ناقابلِ ذکر، پیا نام کا دیا، پُروا، شہر بے مثال، شہرِلازوال، سورج مکھی، توجہ کی طالب، راہ رواں، پھر اچانک یوں ہوا شامل ہیں، مگر جو شہرت بانو آپا کو ان کے ناول راجہ گدھ کی وجہ سے حاصل ہوئی، اس کی مثال پورے اُردو ادب میں نہیں ملتی. بانو آپا کا کہنا تھا کہ راجہ گدھ میں جو سکول آف تھا ٹ میں نے دیا ہے وہ شاید آج کا انسان نہیں سمجھ سکتا کیوں کہ اس میں جو حلال اور حرام کی تھیوری بتائی گئی ہے وہ آج کے انسان یا کل سے پرے کی بات ہے. شاید اس تھیو ری کو سمجھنے میں 100، 200سال یا شاید اس سے بھی زیادہ کا عر صہ لگ جائے. جب 2004ء میں اشفاق صاحب رحلت فر ما گئے تو بانو آپا کی چادر اور چار دیواری، بقول ان کے ختم ہوگئی. کیوں کہ اشفاق صاحب جب زندہ تھے تو وہ جب بھی کسی محفل، مجلس یا تقریب میں جا یا کرتے، تو بانو آپا سے چار قدم آگے چلتے ہوئے تمام لوگوں کو ہٹو بچو کی آوازیں دیتے مگر جب وہ نہ رہے تو پھر گھر کی اور باہر کی تمام ذمہ داریاں بانو آپا پر آگئیں، جن کا کبھی بانو قدسیہ نے تصور بھی نہیں کیا تھا. وہ آج بھی جب گزریں ہوئے لمحات یا د کرتی ہیں تو انھیں ایک سوال جو وہ اشفاق صاحب سے بھی پوچھا کرتی تھیں بہت تنگ کرتا ہے اور وہ سوال یہ تھا اشفاق صاحب کیا کبھی آپ نے اکیلے یہ سوچا کہ آپ نے اپنی اولا د کو کیا دیا؟ آپ خود تو برگد کا درخت بن گئے اور آپ کے بچے اس درخت کے نیچے چھوٹے چھوٹے پودے بن کر رہ گئے. اس کا جواب اشفاق صاحب دیا کرتے تھے کہ بانو ہاں مجھے اس کا احساس ہے مگر میرے اندر فقط مجھے اور میری شہر ت، جو کہ میں حاصل کرنا چاہتا تھا اور جس کو حاصل کرنے کی کوشش میں، مَیں اپنے بچوں کا اُس طرح خیا ل نہیں رکھ سکا جیسا کہ ایک باپ کو رکھنا چاہیے تھا. مگر میں کبھی کبھی شرمندہ ہوتا ہوں، مجھے اپنے آپ میں رہنا اور اپنے آپ کو منوانے کا زندگی میں زیادہ مزا آیا. آخری عمر میں بانو قدسیہ بزرگی اور بیماریوں کی وجہ سے بہت کم چل پھر سکتی تھیں. آپ کے تینوں بیٹے، انیس احمد مرحوم، انیق احمد اور اثیراحمد آپ کی خدمت کرتے تھے اور خاص طور پر اثیر احمد نے تو تقریباً اپنی زندگی اپنی ماں کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی. ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عظیم فنکاروں، کہا نی کاروں، ناول نگاروں اور فنونِ لطیفہ کے تمام لوگوں کی، ان کی زندگی میں عزت کریں اور ان کو اعلیٰ مقام پر رکھیں نہ کہ ان کے مرنے کے بعد ہم بڑے بڑے پروگرام مرتب کریں اور اخباروں میں اپنی تصویریں چھپوائیں. اللہ پاک ہمیں زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ، سلیقہ اورقرینہ عطا فرمائے آمین۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور)

اپنا تبصرہ بھیجیں